اصحاب احمد (جلد 5) — Page 387
۳۹۲ حافظ روشن علی صاحب نمبر شائع کر چکا ہوں اسی طرح مستقبل قریب میں اس تیسرے عظیم استاد کے مفصل حالات پر بھی رسالہ کا ایک خاص نمبر شائع کروں گا۔انشاء اللہ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس کے لئے بھی جلد توفیق بخشے۔آمین۔۱- از اخویم مولوی محمد سعید صاحب انسپکٹر بیت المال ربوہ۔حضرت مولوی محمد سرور شاہ صاحب سے ہم کئی سال تک تعلیم حاصل کرتے رہے۔آپ نہایت محبت اور پیار سے تعلیم دیتے۔آپ طلباء کو ہمیشہ میاں کے لفظ سے مخاطب فرماتے۔ایک دفعہ آپ نے مسجد اقصیٰ میں دوران درس میں فرمایا کہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی جس دن خلیفہ مقرر ہوئے اس سے ایک روز پیشتر تک میں حضور کو تعلیم دیتا رہا مگر آج یہ حالت ہے کہ حضور کے علم قرآن کے مقابلہ میں میراعلم دریا کے مقابل ایک قطرہ کی حیثیت رکھتا ہے۔آپ کا حضور سے جذبہ محبت اس امر سے ظاہر ہے کہ بعد نماز حضور مسجد میں تشریف فرما ہوتے تو مولوی صاحب حضور کے چہرہ مبارک کے سامنے اپنا رومال ہلاتے رہتے تا کہ کوئی مکھی چہرہ مبارک پر نہ بیٹھ جائے۔حضور بھی آپ کا بہت احترام فرماتے تھے۔مجلس عرفان میں اپنے پاس بٹھلاتے تھے۔آپ عام طور پر منطق۔فلسفہ اور علم معانی جیسے مشکل اور خشک مضامین پڑھایا کرتے تھے۔مگر آپ کے علمی تبحر کا یہ حال تھا کہ کبھی مطالعہ کرتے نہیں دیکھا۔جب بھی کلاس میں تشریف لاتے کتاب کا مطالبہ کر کے دریافت فرماتے۔میاں آج کہاں سے پڑھنا ہے اور اس کے بعد پڑھانا شروع کر دیتے۔آپ کا معمول تھا کہ جب پڑھاتے پڑھاتے خیال فرماتے کہ اب لڑکے تھک گئے ہیں۔تو بعض واقعات لطائف کے رنگ میں بیان کرتے اور لطائف بھی سبق آموز اور اس طرح سے طلباء کے دماغ تازہ دم ہو جاتے۔حضرت مسیح موعود کے زمانہ کے بعض واقعات بھی بیان فرماتے۔مثلاً مناظرہ مد کے واقعات اور حضرت مسیح موعود کا آپ کو مولوی ثناء اللہ صاحب کے مقابلہ میں بھیجنا۔اور پھر کامیابی پر حضرت مسیح موعود کے اشعار کا ذکر فرماتے۔مثلاً فكان ثناء الله مقبول قومه ومنا تصدى للتخـاصـم ســرور اور اس طرح بہت خوشی محسوس فرماتے۔