اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 385 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 385

۳۹۰ ہے اب یہ سلسلہ اپنی ظاہری شکل میں بند ہو گیا ہے۔انا لله وانا اليه راجعون۔اللہ تعالیٰ حضرت مولوی صاحب کو جنت الفردوس میں بلند درجات عطا فرمائے آمین ثم آمین۔حضرت مولوی صاحب کو امام ہمام سیدنا حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے جو عشق و محبت تھی جو رابطہ قلبی حاصل تھا۔وہ لفظوں میں بیان نہیں ہوسکتا۔حضور کے ہر ارشاد کی حرفی تعمیل کو آپ لازمی جانتے تھے۔اور یہی روح اپنے حلقہ احباب میں پیدا کرتے تھے۔عشق میں چوں و چرا کا سوال ہی نہیں ہوتا اور یہ نظارہ حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب کی زندگی کا طغرائے امتیاز ہے۔سفر وحضر میں اپنے محبوب آقا کی مجلس میں شرکت اور آپ کے دلنواز کلام کا سننا آپ کا اہم ترین مقصد ہوتا تھا۔اور بڑھاپے کے باوجود راہ خدا میں قربانی کے لحاظ سے جوانوں سے ہر رنگ میں آگے تھے۔اخلاص اور تقویٰ کا تو کوئی مقابلہ ہی نہیں۔جفا کشی اور محنت میں بھی آپ جوانوں سے بڑھ کر تھے۔آخری دنوں تک مطالعہ فرماتے رہے اور تدریس کا شغل جاری رکھا۔آہ ! آج وہ بحر ذخار سکون پذیر ہو گیا۔اور آج وہ مقدس وجود ہماری نظروں سے اوجھل ہو گیا۔اللہ تعالیٰ سے عاجزانہ دعا ہے کہ اپنے پیارے بندے کے درجات کو بلند سے بلند فرمائے۔اور اپنے سلسلہ کی ترقی کے لئے بیش از پیش سامان مہیا فرماۓ وهو على كل شيء قدير “ آپ میری تحریک پر مزید تحریر کرتے ہیں : یہ ہماری خوش بختی ہے کہ حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب ایسے بزرگ اساتذہ سے ہمیں شرف تلمذ حاصل ہوا۔حضرت مولوی صاحب بالعموم مدرسہ احمدیہ کی تین آخری کلاسوں ( چھٹی ساتویں اور مولوی فاضل ) میں منطق و فلسفہ اور تفسیر بیضاوی پڑھاتے تھے۔آپ کا طریق تدریس نہایت امتیازی رنگ رکھتا تھا طلبہ سے انتہائی ہمدردی سے پیش آتے تھے۔آپ کو طالب علم کی یہ بات سخت ناگوار ہوتی تھی کہ وہ دوران درس میں توجہ اور باتوں کی طرف کرے۔آپ چاہتے تھے کہ طلبہ ان کے علم سے پوری طرح استفادہ کریں۔مدرسہ کے اوقات کے علاوہ بھی آپ زائد وقت دے کر طلبہ کو پڑھاتے تھے۔ان دنوں اساتذہ کے ذہن میں یہ بات ہرگز نہ آیا کرتی تھی کہ اپنے شاگردوں سے ٹیوشن فیس بھی لی جایا کرتی ہے۔ان کا سارا کام محض اللہ ہوا کرتا تھا۔حضرت مولوی صاحب بہت معمور الاوقات بزرگ تھے۔اگر چہ آپ کی صحت بڑی اچھی تھی اور آخر تک اچھی رہی مگر سلسلہ کے متعدد کام آپ کے سپرد تھے اس لئے آپ کو فرصت کم ہوتی تھی۔تدریس کے علاوہ آپ