اصحاب احمد (جلد 5) — Page 384
۳۸۹ سرور شاہ صاحب کو معہ چند ساتھیوں کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے موضع مد ضلع امرتسر میں ایک مباحثہ کے لئے بھیجا اور پھر اسی مباحثہ کے حالات کی بناء پر حضور نے بتائید ایزدی رسالہ اعجاز احمدی انعامی دس ہزار روپیہ شائع فرمایا۔اس رسالہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے۔جی ترجمہ:۔پس میرے اصحاب پر آسمان سے تسلی نازل کی گئی اور خدا مدد کر رہا تھا اور خدا نے ان کو قوت لڑائی کی دے دی اور روح القدس نے ان کو مدددی پس وہ خوش ہوگئے اور ثناء اللہ اس کی قوم کی طرف سے مقبول تھا اور ہماری طرف سے مولوی سید محمد سرور شاہ پیش ہوئے۔گویا مقام بحث ایک ایسے بن کی طرح تھا جس میں ایک طرف بھیڑیا چیختا تھا اور ایک طرف شیر غراتا تھا گے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے یہ پاکیزہ کلمات ہمیشہ کے لئے حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب کے روحانی وعلمی بلند مقام کو بیان کرتے رہیں گے۔اور اس سے زیادہ ایک احمدی حضرت مولوی صاحب مرحوم کی کیا تعریف کر سکتا ہے۔اتنے مسلسل لمبے عرصہ تک اور پورے استقلال و تندہی سے دینی خدمات بجالانا حضرت مولوی صاحب موصوف کا خاص امتیاز ہے۔فتنہ پیغامیت کے آغاز میں حضرت مولوی صاحب رضی اللہ عنہ نے جو شاندار کام کیا ہے وہ رہتی دنیا تک تاریخ احمدیت میں زریں حرفوں میں نقش رہے گا۔خلافت ثانیہ کی ترقیات اور خلافت ثانیہ کے دشمنوں کی ناکامی و نامرادی کے ایمان افروز نظاروں کو دیکھنے کے بعد حضرت مولوی صاحب کا وصال ہوا ہے۔بیسیوں مبلغین سلسلہ نے ابتدائی ایام سے حضرت مولوی صاحب مرحوم سے شرف تلمذ حاصل کیا۔اور موجودہ مبلغین میں سے کوئی بھی اس حلقہ سے باہر نہیں ہوگا۔ان تمام نو جوانوں کو جنہیں حضرت مولوی صاحب کے شاگرد ہونے پر فخر ہے۔سلسلہ کے مختلف کاموں پر متعین دیکھ کر حضرت مولوی صاحب کو بہت خوشی اور مسرت ہوتی تھی۔اور آپ ہمیشہ اپنے شاگردوں کے لئے دعائیں فرماتے تھے۔بسا اوقات ان میں سے بعض سے آپ نے فرمایا کہ میں تمہارے لئے اتنے عرصہ سے مسلسل دعا کر رہا ہوں۔اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعاؤں کو قبول فرمایا اور انہیں اس بارے میں ہر طرح سے خوشی عطا فرمائی۔آپ کے تفسیری حقائق و معارف اپنے اندر ایک خاص رنگ رکھتے تھے۔خاکسار کو مدت مدید سے حضرت مولوی صاحب سے شاگردی کی نسبت حاصل ہے اور اب تک بھی مختلف طریقوں سے استفادہ کرنے کا موقعہ ملتا رہا یہاں عربی اشعار چھوڑ دیئے گئے ہیں۔(مؤلف)