اصحاب احمد (جلد 5) — Page 383
۳۸۸ عقیدت کا اظہار کیا تھا اس کا اندازہ اس قلبی کیفیت سے لگایا جا سکتا ہے۔جو ہمیں عریضہ سناتے ہوئے آپ سے بے اختیار ظاہر ہوئی۔ایک ساٹھ سالہ باوقار عالم باعمل اور فاضل اجل اپنے شاگردوں کے سامنے اپنے واجب الاحترام امام کی ناراضگی کے خیال کو ایسے درد و کرب سے محسوس کرتا ہے کہ عریضہ پڑھتا جاتا ہے اور ایک معصوم بچے کی طرح بے اختیار زار زار روتا جاتا ہے۔یہاں تک کہ آپ کی ریش مبارک آنسوؤں سے تر بتر ہوگئی۔ساتھ ہی یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ حضرت مولوی صاحب کے متعلق اس قسم کی رپورٹس پہنچانے میں شیخ عبد الرحمن صاحب مصری پیش پیش تھے۔وہ اپنے ذاتی مفاد اور وقار کی خاطر ایسی کاروائیوں میں ید طولیٰ رکھتے تھے سو اللہ تعالیٰ نے حضرت مولوی صاحب کی زندگی میں اس شخصیت کی حقیقت سے پردہ اٹھا کر یہ ثابت کر دیا کہ حقیقی مخلص کون ہے اور یہ کہ حقیقی مخلص ہی نیک انجام پاتے ہیں۔خدا تعالیٰ ہزاروں برکتیں اور رحمتیں نازل فرمائے۔ہمارے بزرگ استاد کی روح پر جن کے سینکڑوں شاگرد چہارا کناف عالم کو نو راحمدیت سے منور کر رہے ہیں۔آمین۔۱۷- از مکرم مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری ایڈیٹر الفرقان۔ربوہ شیر خدا حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب کا وصال“ اور ”علم وعرفان الٰہی کا مواج سمندر سکون پذیر ہو گیا !‘ کے دوہرے عنوان کے تحت مرقوم ہے۔کل چار احسان ۹ بجے صبح ایک عظیم الشان نشان ربانی انسانی نظروں سے اوجھل ہو گیا۔جبکہ ہمارے مشفق و مہربان استاد علامہ دہر حضرت مولانا سید محمد سرورشاہ صاحب رضی اللہ عنہ کی تدفین ہوئی۔حضرت مولوی صاحب اپنے علم اپنے زہد و تقاء اپنے عشق ومحبت سلسلہ احمدیہ اور اپنی قربانیوں کے لحاظ سے ایک بے مثال وجود تھے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو نوازا اور دنیا و آخرت کے خاص فضلوں کا وارث بنایا۔آپ سے علم دین سیکھنے والوں کا ایک لمبا سلسلہ ہے اور یہ فیض عمیم حضرت مولوی صاحب مرحوم کے درجات کو ہمیشہ بلند کرتا رہے گا۔انشاء اللہ ۱۹۰۲ء یعنی آج سے پنتالیس برس پہلے کی بات ہے کہ جب حضرت مولانا سید محمد