اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 372 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 372

۳۷۷ تھوڑی دیر بعد پھر واپس آیا اور ایک پرچہ پھینکا گیا۔اس میں لکھا تھا ایک ماہ بعد دو طالب علم اور کامیاب ہوں گے۔حضرت مولوی صاحب نے اس کی تعبیر یہ بیان کی کہ دولڑ کے پاس ہوں گے جن میں ایک آپ ہوں گے اور دولڑکوں کے نمبروں میں کچھ کمی ہوگی جن پر دوبارہ غور ہوگا۔ان کا نتیجہ ایک ماہ بعد آئے گا۔اور وہ بھی کامیاب ہو جائیں گے۔چنانچہ جب نتیجہ نکلا تو خاکسار اور مولوی محمد احمد صاحب ثاقب ( پروفیسر جامعہ احمدیہ ربوہ ) کامیاب ہوئے اور نتیجہ کے ایک ماہ بعد مولوی محمد ابراہیم صاحب بھا مڑی ( مدرس تعلیم الاسلام ہائی سکول ربوہ ) اور ایک اور دوست کامیاب ہوئے۔جب نتیجہ کا اعلان اخبار میں آیا تو آپ نے از راہ شفقت ایک آدمی بھیجوایا اور خاکسار کو بلوا کر کامیابی کی مبارک باد دی اور بعض ان طلباء کے متعلق جو جماعت میں اچھے طلباء میں شمار ہوتے تھے اور بہت محنتی بھی تھے۔لیکن فیل ہو گئے تھے اظہار ہمدردی فرمایا۔اور ساتھ ہی فرمایا در اصل اپنی محنت پر ہی ناز نہیں کرنا چاہئے۔بلکہ خدا پر توکل کرنا ضروری ہے کیونکہ امتحان کے وقت ذہن کو جلا دینے والا وہی خدا ہے۔میرے لئے آپ کا استخارہ خاکسار مبلغین کلاس میں داخل ہوا۔دوسرا سال تھا کہ نظارت تعلیم وتربیت کی طرف سے سنسکرت کلاس کے اجراء کا اعلان ہوا۔میرے دل میں شدید خواہش پیدا ہوئی کہ میں بھی سنسکرت کلاس میں داخلہ لے لوں۔ایک طرف مبلغین کلاس کے کٹھن امتحان کا خیال تھا اور دوسری طرف سنسکرت ایسی کٹھن اور نئی زبان کے سیکھنے کا سوال تھا۔میں نے حضرت مولوی صاحب کی خدمت میں اپنی اس خواہش کا اظہار کرتے ہوئے عرض کیا کہ میرے لئے استخارہ فرمائیں۔ایک دن ظہر کی نماز ادا کرنے کے بعد آپ احمد یہ بلڈ پو کے پاس کھڑے تھے کہ خاکسار بھی مسجد سے نیچے اترا۔مجھے بلا کر فرمایا کہ میں نے تمہارے لئے استخارہ کر لیا ہے۔سنسکرت کلاس میں داخلہ کے لئے درخواست دے دو۔چنانچہ خاکسار نے نظارت تعلیم وتربیت میں درخواست دے دی۔اور خاکسار بھی انتخاب میں آگیا۔اور آپ کی دعاؤں کے طفیل خاکسار نے سنسکرت کا نصاب بھی مکمل کیا۔جبکہ خاکسار کے ساتھی اس نصاب کو مکمل نہ کر سکے۔آپ کی مومنانہ فراست خاکسار مبلغین کلاس کے دوسرے سال میں تعلیم حاصل کر رہا تھا کہ جامعہ احمدیہ کے کلرک کی اسامی تخفیف میں آگئی۔خاکسار کو دفتری کام سے کچھ شغف تھا اور اس وقت جب کبھی مکرم مولوی نوراحمد صاحب مولوی