اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 371 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 371

ہم نے آپ کے اس فرمودہ کا بارہا تجربہ کیا اور دیکھا کہ جو طلباء آپ کے درس میں باقاعدگی کے ساتھ شریک ہوتے تھے وہ ضرور کامیاب ہو جاتے تھے۔اور نتیجہ ہم یہ سمجھے کہ ایسے طلباء روزانہ درس میں شریک ہونے کی وجہ سے آپ کی نظروں کے سامنے رہتے تھے اور آپ کی دعاؤں کے مورد بنتے تھے۔تو کل علی اللہ کا درس ۱۹۳۷ء میں خاکسار مولوی فاضل کے امتحان میں شریک ہوا۔اس وقت پنجاب یونیورسٹی کی طرف سے قادیان امتحان کا سنٹر بن چکا تھا۔جامعہ احمدیہ کے آپ پرنسپل تھے۔جماعت مولوی فاضل کو آپ منطق وفلسفہ پڑھاتے تھے۔امتحانات تعلیم الاسلام ہائی سکول کے ہال میں شروع ہوئے۔آپ کا یہ دستور تھا کہ امتحان شروع ہونے سے قبل وہاں تشریف لاتے اور دعا کراتے۔دعا کے بعد طلباء کمرہ امتحان میں جاتے۔جس دن منطق وفلسفہ کا پرچہ تھا اس دن حسب دستور آپ نے دعا فرمائی اور اس کے بعد واپس گھر تشریف نہیں لے گئے بلکہ جامعہ احمدیہ میں تشریف لے آئے تاکہ پرچہ کے متعلق کچھ معلومات حاصل فرمائیں۔طلباء کے خیال میں پر چہ کچھ سخت تھا۔اس لئے نصف وقت گزرنے سے قبل ہی انہوں نے شور مچانا شروع کر دیا۔سپر وائزر سے کہا کہ ہمیں باہر جانے کی اجازت دی جائے۔سپر وائزر نے اس شرط پر نصف وقت سے قبل جانے کی اجازت دی کہ سوالات کے پرچے ہمراہ نہ لے جائیں۔چنانچہ کچھ طلباء چلے گئے اور بہت سے طلباء نصف وقت گزرنے پرنکل گئے۔خاکسار اور منشی فاضل کے بعض طلباء رہ گئے۔وقت ختم ہونے میں صرف چند منٹ باقی تھے جب خاکسار پر چہ تحریر کر کے باہر آیا۔کیا دیکھتا ہوں یہ شفیق و مہربان استاذ حضرت مولوی صاحب طلباء کے جھرمٹ میں باہر کھڑے ہیں میں بھی جلدی سے وہاں پہنچا تو پتہ چلا کہ آپ اس امر پر اظہار ناراضگی فرمارہے ہیں کہ طلباء نصف وقت سے قبل کیوں اٹھے آئے۔اور فرمارہے تھے کہ آخر وقت تک بیٹھنا اور غور وفکر کرنا چاہئے تھا۔دوران گفتگو میں آپ نے دریافت فرمایا کہ کسی طالب علم نے پورے سوالات بھی کئے ہیں۔خاکسار آگے بڑھا اور عرض کیا۔حضور میں نے اپنی سمجھ کے مطابق سب سوالات کئے ہیں آپ نے مجھے تھپکی دی اور دعادی اور فرمایا تم کامیاب ہو جاؤ گے۔چنانچہ اس سال جامعہ احمدیہ کے دس طلباء میں سے صرف دو کامیاب ہوئے۔جن میں سے ایک خاکسار تھا۔ہمارا نتیجہ یونیورسٹی کی معینہ مدت سے بھی دیر سے نکلا۔ابھی نتیجہ نہیں نکلا تھا کہ میں نے خواب دیکھا کہ ایک ہوائی جہاز قادیان آیا ہے جس سے ایک کاغذ نیچے پھینکا گیا ہے وہ کاغذ میں نے پکڑا۔اس میں نتیجہ کا اعلان ہے اور دوطلباء کی کامیابی کا ذکر ہے اور ان دو میں میرا نام بھی ہے۔ہوائی جہاز پر چہ پھینک کر چلا گیا لیکن