اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 370 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 370

۳۷۵ ذرا ہلکی پڑھایا کریں۔اس پر مولوی صاحب نے حلفاً کہا کہ حضور میں تو سجدہ میں صرف تین دفعہ سبحان ربی الاعلیٰ کہتا ہوں۔میں نے اپنے کانوں سے آپ کے یہ الفاظ سنے جبکہ اسی نماز میں میں نے خود بعض سجدوں میں لگ بھگ ایک سومرتبہ سبحان ربی الاعلیٰ پڑھا تھا تو آپ سجدہ میں سر اٹھاتے تھے۔آپ کا یہ جواب سن کر مجھے حضرت میر محمد الحق صاحب کی بیان کردہ بات یاد آ گئی اور میں سمجھا کہ نماز میں حقیقتا آپ کا انہاک اور آپ کی محویت اس درجہ تھی کہ آپ سبحان ربی الاعلیٰ کہنے کے بعد حضرت مرزا مظہر جان جاناں کی طرح اللہ تعالیٰ کی صفت سبوحیت پر غور فرماتے ہوں گے اور اس طرح آپ تین بار سبحان ربی الاعلیٰ کہہ کر سجدہ سے سراٹھاتے ہوں گے۔بلا وجہ جمع نماز کی مخالفت آپ بلاوجہ دو نمازوں کو جمع کرنے کے سخت مخالف تھے ایک دفعہ برسات کا موسم تھا۔جو نہی ظہر کی نماز کا آغاز ہوا بڑی شدت کی بارش شروع ہوئی اور نماز کے اختتام تک جاری رہی۔نماز ظہر ختم ہونے پر بعض دوستوں نے عرض کیا کہ بارش ہو رہی ہے نماز جمع ہونی چاہئے۔حضرت مولوی صاحب ان دنوں سلسلہ احمدیہ کے مفتی بھی تھے۔حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے آپ سے دریافت فرمایا کہ کیا فتویٰ ہے۔اب تک یہ نظارہ میری آنکھوں کے سامنے ہے کہ مولوی مسجد سے باہر سیٹرھیوں تک تشریف لے گئے۔ابرآلود آسمان کو دیکھا اور واپس آکر عرض کیا کہ نماز جمع کر لی جائے۔چنانچہ حضور نے نماز عصر پڑھائی جس کے اختتام تک بارش ختم ہو چکی تھی۔اور ایک طرف سے مطلع بھی صاف ہو چکا تھا۔اور دھوپ نمودار ہو چکی تھی۔حضور نے خوش طبعی کے رنگ میں پوچھا کہ اب کیا فتویٰ ہے۔مولوی صاحب مسکرائے اور عرض کی کہ کبھی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اس رنگ میں بھی سہولت عطا فرما دیتا ہے۔شاگردوں کے حق میں دعائیں آپ بے حد دعائیں کرنے والے بزرگ تھے۔اور شاگردوں کو بھی اپنی دعاؤں میں یا درکھا کرتے تھے۔ایک دفعہ کلاس میں فرمایا کہ بعض طلباء تھوکنے ، ناک صاف کرنے وغیرہ کے بہانے سے کلاس سے باہر نکل جاتے ہیں اور دیر تک کلاس میں واپس نہیں آتے۔ایسے طلباء یہ نہ سمجھیں کہ مجھے ان کے جانے کا علم نہیں ہوتا۔میں ان کی نقل وحرکت سے بخوبی واقف و آگاہ ہوتا ہوں۔پھر فرمانے لگے کہ جو طالب علم میرے درس میں باقاعدگی کے ساتھ شرکت کرے گا۔اس کا درس میں شامل ہونا ہی اس کی کامیابی کے لئے ضمانت ہے۔چنانچہ