اصحاب احمد (جلد 5) — Page 366
ملحقہ دیہات سے آمدہ فقراء اور سانسی قوم کے افراد میں پیسے تقسیم فرماتے کیونکہ یہ لوگ جمعہ کے روز معمولاً جمع ہو جاتے تھے کہ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کا معمول تھا کہ ان کو نقدی دیتے۔آپ بہت لمبی نماز پڑھاتے تھے۔ایک دفعہ حضور کشمیر تشریف لے گئے تو واپسی پر شکایت ہوئی کہ سخت گرمی میں مولوی صاحب نے بہت لمبی نماز پڑھاتے تھے۔اس پر حضور نے مجلس میں آپ کی موجودگی میں یہ واقعہ سنایا کہ جب ہم کشمیر کے ایک جنگلات والے علاقہ میں سیر کے لئے گئے تو ہمارا خیال ہوا کہ اب اس سے آگے کوئی آبادی نہیں ہوگی۔اچانک شام کے وقت ایک کشمیری آیا۔اس نے بتایا کہ وہ احمدی ہے اور اس نے قادیان کو دیکھا ہے مگر قافلہ والوں کو یقین نہ ہوا۔میں نے اسے بلا کر پوچھا کہ قادیان کی مسجد میں کون امام ہیں اور کس طرح کی نماز پڑھاتے ہیں۔اس پر اس کشمیری نے کہا کہ اس مسجد کے امام کی ایک وقت کی نماز تمام کشمیر کی سال بھر کی نمازوں کے برابر ہے۔اس پر مجھے یقین آگیا کہ بالکل ٹھیک ہے اس نے قادیان کو دیکھا ہے۔اور یہ شخص احمدی ہے۔حضور نے مولوی صاحب کا ادب ملحوظ رکھتے ہوئے براہ راست کچھ نہ فرمایا۔بلکہ ایک واقعہ بیان فرما کر ہلکی نماز پڑھانے کی طرف توجہ دلائی۔آج جماعت کے بزرگ حضرت مولوی صاحب مرحوم کی لمبی اور دلگد از نماز کو یاد کرتے ہیں آپ کی امامت مسجد مبارک کے لئے زینت اور خوبصورتی کا باعث تھی۔۱۲- از اخویم مولوی احمد خان صاحب نسیم فاضل انچارج اصلاح و ارشاد مقامی ربوہ ( آپ میرے ہم جماعت ہیں) میں ۱۹۱۲ء میں قادیان گیا تھا جبکہ میری عمر قریباً چار برس کی تھی۔میں بچپن سے جب سے مجھے ہوش ہے حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب کو جانتا تھا۔میں نے آپ کے اخلاق و عادات کا جو نظارہ اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے میں وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ ایسے آدمی کبھی کبھار پیدا ہوتے ہیں میں نے بارہا اس نہج پر سوچا ہے کہ جس قدر نماز با جماعت کی پابندی حضرت استاذی المکرم میں پائی جاتی تھی تاریخ اسلام میں شاید کم ہی لوگ آپ کے برابر ہوں گے۔اور جس قدر نکاح اور نماز جنازہ آپ نے پڑھائے ہیں شاید تاریخ اسلام میں آپ کے برابر کوئی بھی نہیں ہوگا۔آپ مصروف الاوقات تھے مگر کبھی بھی آپ نے کسی کام سے تنگی یا تر شروئی کا اظہار نہیں فرمایا۔نماز اتنے شغف سے ادا فر ماتے تھے کہ مقتدی بعض دفعہ گھبرا جاتے تھے کہ مولوی صاحب بہت لمبی نماز پڑھاتے ہیں۔مگر بار ہا میں نے مولوی صاحب کو حلفاً فرماتے سنا کہ میں تین سے زائد دفعہ تسبیح نہیں کہتا۔ایک دفعہ میں نے حضرت مولوی صاحب کے پیچھے ظہر کی نماز پڑھی۔میں نے آہستہ آہستہ پہلی رکعت میں سورہ فاتحہ گیارہ دفعہ پڑھی۔تو آپ نے رکوع فرمایا۔