اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 363 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 363

۳۶۸ عظیم الشان انسان کے کردار کی ترجمانی فرمائی۔وہ لطیف اور پیاری بات جو اللہ تعالیٰ کا ایک پاکباز انسان ( حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام) فرمایا کرتا تھا۔بظاہر یہ بچوں کی بات تھی مگر آپ نے جو دو تین لفظ کہے تھے یہ ترجمانی تھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس مسیح دوراں کی جس نے حقیقت میں گالیاں سن کر بھی دشمنوں کے حق میں دعا کی۔آپ جب اس مکان میں منتقل ہو گئے جو حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی کے مکان کے قریب پل کے ساتھ تھا جس میں آپ آخر وقت تک رہے جو موجودہ جلسہ گاہ کے متصل ہے اور ہم لوگ اکثر اس بڑ کے نیچے جو عہد مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا شاہد ہے اور آج بھی اپنی شدید ضعیفی کے باوجود اپنے مقام پر کھڑا ہے (اس درخت کو ایک مرتبہ کاٹنے کا خیال پیدا ہوا تھا۔والدی حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی الاسدی نے مخالفت کی تھی ) کھیلا کرتے تھے مولوی صاحب اکثر وہاں سے گزرتے تھے مگر کبھی اس طرف توجہ نہ کی۔ایک مرتبہ مجھے باری کا بخار آنے لگا۔کسی نے بتایا کہ حضرت شاہ صاحب بخار کا تعویذ دیتے ہیں۔ہم لوگ فطرتی طور پر ان چیزوں سے ناواقف تھے تا ہم میں حضرت مولوی صاحب کے پاس گیا اور بتایا کہ مجھے باری کا بخار آتا ہے آپ نے دوسرے روز اعلی الصبح بلایا اور مجھے تین تعویذ تین دن باری باری استعمال کرنے کے لئے دے دئے اور مجھے شفا ہوگئی۔پھر کچھ عرصہ کے بعد اپنے کسی بھائی یا بہن کی علالت پر گیا تو آپ نے فرمایا علاج کرو اور میں دعا کروں گا۔اللہ تعالیٰ شفا دے گا اور مجھے تعویذ نہ دیا۔اس بات میں یہ راز مضمر تھا کہ حضرت مولوی صاحب نے محسوس کیا کہ ان چیزوں سے لوگ دعا کی طرف سے توجہ ہٹا لیں گے اور ان خرافات کی طرف ذہن منتقل ہو جائے گا۔لہذا انہوں نے اس طریق علاج کو ختم کر دیا۔یوں تو حضرت شاہ صاحب نے ہزاروں نکاح پڑھائے تھے مگر ایک نکاح میری سمجھ میں ان کی بزرگی کو نمایاں کرنے کے لئے قابل ذکر ہے۔اور یہ وہ نکاح ہے جو حضرت امیر المومنین خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا حضرت سیدہ مریم بیگم صاحبہ مرحومہ کے ساتھ پڑھا تھا۔میں اس وقت ہائی سکول کے بورڈنگ ہاؤس میں مقیم تھا۔ہم سب لڑکوں کو شہر لایا گیا تھا۔اور مسجد مبارک میں حضرت شاہ صاحب نے اس مبارک نکاح کی ایجاب وقبول کرانے کا شرف پایا۔یہ ہیں ماضی کی چند باتیں۔ماضی حسین و جمیل ماضی۔مستقبل کی مشعلِ راہ ماضی جو دلوں کومحو حیرت کر دیتی ہے۔کئی سالوں سے قادیان سیم زدہ ہے اس سے سارے بڑ کے درخت سوکھ گئے اور ایندھن کے طور پر کام آئے۔چند سال تک صدر انجمن احمدیہ نے اس کا تنا بطور نشان قائم رکھا لیکن اس کے قائم رہنے کا امکان نہ رہا بہت بوسیدہ ہو گیا تھا اور ہر وقت گرنے کا خطرہ تھا۔چنانچہ ۱۹۶۲ء میں اسے بھی فروخت کر دیا گیا (مؤلف)