اصحاب احمد (جلد 5) — Page 316
۳۲۰ الفضل کے مرقومات موت العالم موت العالم “ اور ” حضرت علامہ مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب کا انتقال کے دوہرے عنوان کے تحت مؤقر الفضل رقمطراز ہے۔قادیان ۴ ماہ احسان۔جیسا کہ احباب کو علم ہو چکا ہے کہ عالم بے بدل فاضلِ اجل حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب مفتی سلسلہ عالیہ احمد یہ کل سات بجے شام انتقال فرما گئے۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون - آج صبح ہی سے حضرت مولوی صاحب کے مکان پر بزرگانِ سلسلہ و احباب جمع ہونے شروع ہو گئے۔آٹھ بجے آپ کا جنازہ اٹھایا گیا اور باغ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پہنچا دیا گیا۔جہاں پر تمام تعلیمی اداروں کے طلباء اور احباب اور خواتین بہت بڑی تعداد میں جمع تھے۔سیدنا حضرت امیر المؤمنین اصلح الموعود ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ہزاروں مؤمنین کے ہمراہ نماز جنازہ ادا فرمائی اور نعش کو کندھا دیا۔قبر کی تیاری تک حضور و ہیں تشریف فرما رہے۔حضور نے اپنے دستِ مبارک سے قبر پر مٹی ڈالی اور دعا فرمائی اور پھر واپس تشریف لائے۔حضرت مولوی صاحب کو صحابہ کے قطعہ خاص میں مزار حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بالکل قریب دفن کیا گیا ہے۔“ ابتدائی حالات زندگی حضرت مولوی صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت سید عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی اولاد میں سے تھے آپ کے والد ماجد کا نام سید محمد حسن صاحب تھا۔آپ کے پردادا سید زین العابدین صاحب تھے جو ضلع ہزارہ میں مدفون ہیں۔سید زین العابدین صاحب کے بھائی شاہ محمد غوث صاحب ایک مشہور بزرگ تھے ان کا مزار لاہور میں دہلی گیٹ کے باہر ہے۔حضرت مولوی صاحب تیرہ سال کی عمر میں ہی تحصیل علم کی خاطر اپنے وطن ہزارہ سے عازمِ سفر ہو گئے صرف و نحو کا علم آپ نے یکے بعد دیگرے تین اساتذہ سے حاصل کیا۔ان تینوں کا نام عبدالکریم تھا۔علوم منطق و فلسفه مولوی غلام احمد صاحب اول مدرس مدرسہ نعمانیہ لاہور سے پڑھا۔مفتی سلیم اللہ صاحب لاہوری سے طب پڑھی۔اس کے بعد آپ دیو بند تشریف لے گئے اور وہاں علوم حدیث کی تعلیم حاصل کی۔تعلیم سے فارغ ہونے