اصحاب احمد (جلد 5) — Page 282
۲۸۶ دل قد رٹھنڈا ہوا اور میں نے کہا کہ ہماری جماعت میں عالی خیال اور عالی ظرف لوگ بھی ہیں اور اب یہ کام قرآنی رنگ اور خدائی آئین پر چلے گا لیکن یہ تمام خوشی خاک میں مل گئی۔جب پکے مرزائیوں نے اس تجویز کے خلاف شور مچانا شروع کیا اور یہ تجویز خاک میں مل گئی۔خواجہ صاحب کی یہی سکیم تھی کہ حضرت مرزا صاحب نے ہمیں ایسا ضرور بنا دیا ہے کہ جہاں جائیں گے استاد اور پیر کا مقام پائیں گے لیکن غیر احمدی احمدیت سے بھاگتے ہیں اور دوسری طرف حضرت مرزا صاحب کا ذکر نہ ہو تو احمدی ” نادانی سے شور ڈالنا شروع کر دیتے ہیں اس لئے یہ ترکیب نکالی کہ اگر رسالہ یا اخبار سے حضرت مرزا صاحب کا نام نکال دیا جائے اور ضمیمہ میں حضور کا ذکر ہو یا اصل رسالہ یا اخبار غیر احمد یوں میں اشاعت پذیر ہو اور ضمیمہ میں حضور کے ذکر سے احمدی خوش ہوں اور اس طرح احمدیت کا ہمارا لیبل بھی قائم رہے اور ہم متلون مزاج اور مرتد بھی قرار نہ پائیں۔ان کا منشاء یہ تھا کہ اگر حضرت مرزا صاحب کے وقت میں کسی ایک رسالہ یا اخبار سے ان کا نام نکال دیا جائے تو پھر سب سے اس کو آسانی سے نکال دیں گے۔چنانچہ حضور کی تدفین سے قبل خواجہ صاحب نے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ دھن ہے مرزا کہ ہم نے بھی ناخنوں تک زور لگایا کہ سود کی کوئی ایک صورت تو تو حلال کر دے پھر باقی کو ہم خود درست کر لیں گے لیکن باوجود اس قدر ہیر پھیر اور کوشش کے تو نے ایک بھی نہ مانی۔آئے دن شیخ رحمت اللہ صاحب کی معرفت سود کی کوئی پیچیدہ صورت پیش کر کے جواز کا فتویٰ مانگا جاتا تھا۔جس ذات والا صفات کو تمام دنیا کے لئے امام اور حکم عدل اور ایمان کو ثریا سے اور قرآن کو جو آسمان پر اٹھ گیا تھا واپس لانے والا خواجہ صاحب یقین رکھتے تھے پھر اس سے سود جیسی حرام قطعی کو حلال قرار دلانے میں طرح طرح کے حیلوں سے کام لیتے تھے اور وہ بھی اس نیت کے ساتھ کہ باقی صورتوں کو خود ہی حلال اور درست قرار دیں گے۔اللہ تعالیٰ نے خواجہ صاحب اور ان کے ساتھیوں سے اصرار کرا کے حضرت مولوی نورالدین صاحب کو خلیفہ بنوایا۔تو جلد بعد خواجہ صاحب کو خلیفہ اپنی سکیم میں سب سے بڑا مانع نظر آیا اور انہوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ ہم سے بڑی غلطی ہوگئی اب اس کے اختیارات محدود کر کے ہی تدارک ہوسکتا ہے اور پھر اس خیال کی تشہیر شروع کی کہ انجمن حضرت مسیح موعود کی جانشین ہے اور خلیفہ اس کے حکم کے ماتحت ہے یا زیادہ سے زیادہ یہ کہ اس کا صدرر ہے جس کا کام امامت صلوٰۃ و جنازہ اور نکاح خوانی اور بیعت لینا ہے وبس۔چنانچہ حضور کے وصال کے بعد پہلے جلسہ سالانہ (۱۹۰۸ء) میں خلاف معمول تمام ممبران انجمن کی تقرریں ہوئیں اور مختلف عنوانوں سے موضوع یہی امر تھا۔ماسوا تقاریر حضرت صاحبزادہ مرزا محمود احمد صاحب ( ایدہ اللہ تعالیٰ ) و سید محمد احسن صاحب۔جب اس بارہ میں بطور سوال یہ معاملہ حضرت خلیفہ اول کی خدمت میں پیش ہوا تو