اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 257 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 257

۲۶۱ کرتے تو کہا جاتا کہ انہیں سلسلہ کا کوئی درد نہیں۔(م) ہیں حضرت سید نامحمود ایدہ اللہ تعالیٰ ان معترفین کے جگر دوز اور روح فرسا اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے رقم فرماتے ہیں :- افسوس میں نے اپنے دوستوں سے وہ سُنا جو یوسف نے اپنے بھائیوں سے نہ سنا تھا۔میرا دل حسرت و اندوہ کا مخزن ہے اور حیران ہوں کہ میں کیوں اس قدر مورد عتاب ہوں بے شک وہ بھی ہوتے ہیں جو غم و راحت میں اپنی عمر گزارتے ہیں۔مگر یہاں تو۔چھاتی قفس میں داغ سے اپنے ہے رشک باغ جوش بہار تھا کہ ہم آئے اسیر ہو اگر میں تبلیغ دین کے لئے باہر نکلتا ہوں تو کہا جاتا ہے کہ لوگوں کو پھسلانے کے لئے اپنی شہرت کے لئے۔اپنا اثر ورسوخ پیدا کرنے کے لئے اپنی حمایتیں بنانے کے لئے نکلتا ہے اور اس کا باہر نکلنا اپنی نفسانی اغراض کے لئے ہے اور اگر میں اس اعتراض کو دیکھ کر اپنے گھر بیٹھ جاتا ہوں تو یہ الزام دیا جاتا ہے کہ یہ دین کی خدمت میں کوتاہی کرتا ہے اور اپنے وقت کو ضائع کرتا ہے اور خالی بیٹھا دین کے کاموں میں رخنہ اندازی کرتا ہے۔اگر میں کوئی کام اپنے ذمہ لیتا ہوں تو مجھے سنایا جاتا ہے کہ میں حقوق کو اپنے قبضہ میں کرنا چاہتا ہوں اور قومی کاموں کو اپنے ہاتھ میں لینا چاہتا ہوں اور اگر میں دل شکستہ ہو کر جدائی اختیار کرتا ہوں اور علیحدگی میں اپنی سلامتی دیکھتا ہوں تو یہ تہمت لگائی جاتی ہے کہ یہ قومی درد سے بے خبر ہے اور جماعت کے کاموں میں حصہ لینے کی بجائے اپنے اوقات کو رائیگاں گنواتا ہے۔مگر مجھے جاننے والے جانتے ہیں کہ میں عام انسانوں سے زیادہ کام کرتا ہوں۔حتی کہ اپنی صحت کا بھی خیال نہیں رکھتا۔مگر اسے جانے دو مجھے تم خود ہی بتاؤ کہ وہ کون سا تیسرا راستہ ہے جسے میں اختیار کروں۔خدا کے لئے مجھے اس طریق سے آگا ہی دو جس پر ان دونوں راستوں کو چھوڑ کر میں قدم زن ہوں۔اللہ مجھے وہ سبیل بتاؤ جسے میں اختیار کروں۔آخر میں انسان ہوں۔خدا کے پیدا کئے ہوئے دوراستوں کے علاوہ تیسرا راستہ میں کہاں سے لاؤں؟ صبح شام ، رات دن ، اٹھتے بیٹھتے یہ باتیں سن سن کر میں تھک گیا ہوں زمین با وجود فراخی کے مجھ سے تنگ ہو گئی ہے اور آسمان با وجود نعمت کے میرے لئے قید خانہ کا کام دے رہا ہے اور میری وہی حالت ہے کہ ضَاقَتْ عَلَيْهِمُ الْأَرْضُ بِمَا رَحْبَتْ وَضَاقَتْ عَلَيْهِمُ اَنْفُسُهُمْ وَظَنُّوا أَنْ لَّا مَلْجَامِنَ اللَّهِ إِلَّا الیہ۔افسوس کہ میرے بھائی مجھ پر تہمت لگاتے ہیں اور میرے بزرگ مجھ پر بدظنی کرتے ہیں۔لوگ کہتے مدرسہ والی بات کا ذکر بھائی جی نے الحکم جو بلی نمبر میں بھی کیا ہے۔ص ۳۱۔ک۲۔