اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 258 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 258

۲۶۲ ہیں کہ دنیا میں ڈیڑھ ارب آدمی بستا ہے مگر مجھے سوائے خدا کے اور کوئی نظر نہیں آتا۔لوگ اس دنیا میں تنہا آتے اور یہاں سے تنہا جاتے ہیں۔مگر میں تو تنہا آیا اور تنہا رہا اور تنہا جاؤں گا۔یہ زمین میرے لئے ویران جنگل ہے اور یہ بستیاں اور شہر میرے لئے قبرستان کی طرح خموش ہیں۔میرے دوست اس وقت مجھے معاف فرما ئیں۔میں ان کی محبت کا شکر گزار ہوں لیکن میں کیا کروں کہ جہاں میں ہوں وہاں وہ نہیں ہیں۔میں ان مہربانوں کے مقابلہ میں جو مجھے آئے دن ستاتے رہتے ہیں۔ان کی محبت کی قدر کرتا ہوں ان کے لئے دعا کرتا ہوں۔اپنے رب سے ان پر پر فضل کرنے کی درخواست کرتا ہوں۔لیکن باوجود اس کے میں تنہا ہوں میری مثال ایک طوطے کی ہے جس کا آقا اس پر مہربان ہے اور اس سے نہایت محبت کرتا ہے اور طوطا بھی اس کے پیار کے بدلہ میں اس سے انس رکھتا اور اس کو پسند کرتا ہے۔مگر پھر بھی اس کا دل کہیں اور ہے اور اس کے خیال کہیں اور ہیں۔میرے آقا کا دل بند میرا مطاع امام حسین تو ایک دفعہ کر بلا کے ابتلاء میں مبتلا ہوا لیکن میں تو اپنے والد کی طرح یہی کہتا ہوں کہ کربلا نیست سیر هر آنم صد حسین است در گریبانم ۲۳۸ انجمن انصار اللہ کا قیام اور اس کی نصرت خلافت حضرت خلیفہ اول کے عہد مبارک میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب ( بعدۂ خلیفہ ثانی) کے ذریعہ ایک انجمن انصار اللہ کا قیام عمل میں آیا۔یوں کہ آپ نے ایک اعلان کیا کہ میں نے خواب دیکھا ہے کہ ایک بڑے محل کا ایک حصہ گرایا جارہا ہے اور ساتھ کے میدان میں ہزاروں تھیر سے اینٹیں تیار کر رہے ہیں۔میرے پوچھنے پر ان لوگوں نے جنہیں میں فرشتے سمجھتا ہوں بتایا کہ یہ جماعت احمد یہ ہے کہ اس کے ایک حصہ سے پرانی اینٹیں خارج کرنی ہیں اس لئے اسے گرایا جارہا ہے اور کچی اینٹیں پکی کر دی جائیں گی اور مکان کو وسیع کر دیا جائے گا۔آپ رقم فرماتے ہیں کہ مجھے اس خواب سے یہ سوجھا کہ اگر ہم ملائکہ کے کام میں مدد دیں کے تو ان سے ہمارا خاص تعلق ہو جائے گا اور ہمارے نفوس کی اصلاح بھی ہو جائے گی اور میرے دل میں ایک یہ تحریک ہوئی کہ ایک انجمن قائم کی جائے جس کے ممبران خصوصاً قرآن و حدیث اور احمدیت کی تبلیغ اور افراد جماعت میں صلح پیدا کرنے کی طرف توجہ رکھیں۔گویا دنیوی امور میں مشغولیت کے باوجود بھی اپنے تئیں دین کے لئے وقف کر دیں۔مبارک ہے وہ جو اپنے مولا کی راہ میں اپنی خواہشات پر موت وارد کر لیتا ہے۔جو اشرف المخلوقات ہو کر