اصحاب احمد (جلد 5) — Page 250
۲۵۴ قادیان میں جا کر خود انبیاء اور صحابہ کی زندگی کو دیکھ لیا ہے۔جس قدر آرام کی زندگی اور تعیش وہاں پر عورتوں کو حاصل ہے اس کا تو عشر عشیر بھی باہر نہیں۔حالانکہ ہمارا رو پیدا پنا کمایا ہوا ہوتا ہے اور ان کے پاس جور و پیہ جاتا ہے وہ قومی اغراض کے لئے قومی روپیہ ہوتا ہے۔لہذا تم جھوٹے ہو جو جھوٹ بول کر اس عرصہء دراز تک ہمیں دھوکہ دیتے رہے ہو اور آئندہ ہم ہر گز تمہارے جھوٹ میں نہ آویں گی۔پس اب وہ ہم کو روپیہ نہیں دیتیں کہ ہم قادیان بھیجیں۔اس پر خواجہ صاحب نے خود ہی فرمایا تھا کہ ایک جواب تم لوگوں کو دیا کرتے ہو۔پر تمہارا وہ جواب میرے آگے نہیں چل سکتا۔کیونکہ میں خود واقف ہوں اور پھر بعض زیورات اور بعض کپڑوں کی خرید کا مفصل ذکر کیا اور مجھے خوب یاد ہے کہ اس طویل سفر میں آتے اور جاتے ہوئے ان اعتراضات کے باعث مجھے ایسا محسوس ہورہا تھا کہ غضب خدا نازل ہو رہا ہے اور میں متواتر دعا میں مشغول تھا۔۔۔۔”جناب کو یاد ہو گا جب میں نے جناب کو کہا تھا کہ آج مجھے پختہ ذریعہ سے معلوم ہوا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ واسلام نے گھر میں بہت اظہار رنج فرمایا ہے کہ باوجود میرے بتانے کے کہ خدا کا منشاء یہی ہے کہ میرے وقت میں لنگر کا انتظام میرے ہی ہاتھ میں رہے اور اگر اس کے خلاف ہو تو لنگر بند ہو جاوے گا۔مگر یہ (خواجہ وغیرہ) ایسے ہیں کہ بار بار مجھے کہتے ہیں کہ لنگر کا انتظام ہمارے سپرد کر دو اور مجھ پر بدظنی کرتے ہیں۔“ ۲۳۴ اب ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت اقدس کا وصال ہوا۔پہلے تو یہ لوگ حضرت مولوی نور الدین صاحب کی خلافت پر متفق تھے۔چنانچہ محترم بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی تحریر فرماتے ہیں :- ”حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب اکثر بیان فرمایا کرتے ہیں کہ حضور پر نور کے وصال کے بعد جب دوسرے روز صبح ۲۷ رمئی کو خواجہ صاحب، شیخ رحمت اللہ صاحب، ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب اور ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحبان وغیرہ قادیان آئے۔سخت گرمی کے دن تھے۔ان کی خدمت ، تواضع اور ناشتہ پانی وغیرہ کا کام میرے ذمہ لگایا گیا۔چنانچہ میں مناسب طریق پر کہہ سن کر ان سب کو باغ سے شہر میں لے آیا۔حضرت نواب صاحب کے مکان کے نچلے حصہ کے جنوب مغربی خام دلان میں بٹھایا۔۔۔۔۔اس موقع پر خواجہ کمال الدین صاحب نے کھڑے ہو کر نہایت ہی پُر سوز تقریر کی جس کا خلاصہ یہ تھا کہ