اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 199 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 199

۲۰۳ دلالت کرتا ہے۔غرض اللہ تعالیٰ نے بھی قانون مقرر کئے ہوئے ہیں۔ان قوانین میں سے ایک یہ بھی ہے کہ کسی کام کے لئے اس نے جو رستے اور طریق مقرر کئے ہیں اگر ان پر چلا جائے تو ایسے بابرکت نتائج نکلتے ہیں جیسی امید رکھی جاتی ہے۔پس اس میں شبہ نہیں کہ سب کام خدا تعالیٰ ہی کرتا ہے مگر اس میں بھی شبہ نہیں ہے کہ مقررہ قانون کے مطابق انسان کے لئے کوشش کرنا ضروری ہوتا ہے۔اس میں شبہ نہیں کہ خدا تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق فرمایا ہے۔مَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَ اللَّهَ رَمَى خدا تعالیٰ نے بدر کے موقع پر جو برکت نازل کی اور مخالفوں کو شکست ہوئی اس کے متعلق فرمایا اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) تم نے نہیں پھینکا تھا مگر اس کے ساتھ ہی یہ بھی فرمایا جب کہ تم نے پھینکا تھا۔اگر سارا کام خدا تعالیٰ نے ہی کرنا تھا تو پھر اذر میت کہنے کی کیا ضرورت تھی۔اس موقع پر خدا تعالیٰ نے نصرت دی اور ایسی نصرت دی کہ اس کے متعلق کہا جاسکتا ہے ولكن الله رمی۔سب کچھ خدا نے ہی کیا تھا۔مگر اس کے ساتھ اِذْ رَمَيْتَ کہنا بتاتا ہے کہ جب تک محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں پھینکا خدا تعالیٰ نے بھی نہیں پھینکا تھا۔بے شک نتیجہ خدا تعالیٰ کے پھینکنے سے نکلا۔مگر اس وقت جب رَمَيْتَ ہوا۔یعنی جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھینکا۔اسی طرح خدا تعالیٰ نے بحر کو پھاڑا۔مگر اس وقت جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے خدا تعالیٰ کے کہنے پر سوشا مارا۔پھاڑا تو خدا نے مگر پھاڑنے کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ سے وابستہ کر دیا۔مطلب یہ کہ پہلے کوشش کرو۔پھر خدا تعالیٰ کی طرف سے نتائج نکلیں گے۔غرض تمام کاموں کے لئے خواہ وہ روحانی ہوں یا جسمانی۔یہ قاعدہ مقرر ہے کہ مقدور بھر کوشش کرو۔اپنی طرف سے کوتا ہی نہ کرو۔پھر جو کمی رہ جائے گی وہ خدا تعالیٰ پوری کر دے گا۔6◉ اسی قانون کے ماتحت ضروری ہے کہ سلسلہ کی تبلیغ اور اشاعت کے لئے ایسی جماعت تیار کی جائے جو ہمیشہ کے لئے سلسلہ کے مذہبی اور تبلیغی کاموں کی اپنے آپ کو الانفال: ۱۸