اصحاب احمد (جلد 5) — Page 188
۱۹۲ فرزند سید مبارک احمد صاحب کے ساتھ مسجد مبارک میں پہنچتے تھے کیونکہ ایک دو بار آپ راستہ میں گر گئے تھے۔نہ معلوم آپ مسجد کی سیڑھیاں کس طرح چڑھتے تھے ) جواباً فرمایا۔" کوئی اور ہو تو اس حالت میں مسجد میں نہ جائے لیکن میں چلا جاتا ہوں۔وفات سے دو تین دن پہلے تک آپ مسجد میں با قاعدگی سے آتے رہے۔ایسی ہمت اور با قاعدگی دیکھنے میں نہیں آئی۔شدید ضعف کے باعث جنازہ پڑھانے کے لئے بھی آپ کو اطلاع نہیں دی جاتی تھی لیکن ایک روز کسی نے غلطی سے اطلاع دے دی۔صحن مہمان خانہ میں حضرت مفتی محمد صادق صاحب نے نماز جنازہ ختم کی تو ہم نے دیکھا کہ حضرت مولوی صاحب ، سید مبارک احمد صاحب کے ساتھ آپہنچے ہیں۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ” مسجدوں کی رونق بنو اور دعاؤں پر زور دو کے زیر عنوان واعظانہ مضمون میں احباب کو تلقین کرتے ہوئے رقم فرماتے ہیں :۔حضرت مولوی صاحب کی طبیعت جنوری ۱۹۴۷ء میں تو ضرور نا ساز تھی۔چنانچہ آخری بار ۲۰ /جنوری کو ایک تقریب میں شمولیت کا علم ہوتا ہے جہاں آپ نے چوہدری غلام مرتضی صاحب حال وکیل القانون کو تعلیمی اداروں کی طرف سے دی گئی الوداعی دعوت میں دعا کرائی اور ہم فروری کو آخری جنازہ پڑھایا جو حاجی محمد بخش صاحب چہلمی کا تھا۔11 حضرت مرزا بشیر احمد صاحب والے مضمون مرقومه ۲۱ فروری سے معلوم ہوا کہ پرسوں ( گویا ۱۹ / فروری کو ) مولوی صاحب سے نماز میں سہو ہوا۔الفضل میں بھی ۱۸ فروری کو نقاہت بہت ہے۔اور ۲۱ فروری کو " نقاہت بہت ہوگئی ہے۔مرقوم ہے۔(۲۲۱۹ فروری زیر مدینہ اسیح ) مؤذن نے مجھے بتایا تھا کہ اگلے روز حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد پر مولوی صاحب کو امامت کے لئے اطلاع دینا بند کر دیا گیا تھا۔الفضل ۲۴، ۱۲۵ فروری و یکم مارچ سے معلوم ہوتا ہے کہ ۲۴ کو مفتی محمد صادق صاحب امیر اور امام الصلوۃ مقرر ہوئے اور حافظ مختار احد صاحب شاہجہانپوری نے ایک جنازہ پڑھایا اور ۲۸ فروری کو مولوی صاحب کی طبیعت نقاہت کی وجہ سے زیادہ ناساز رہی۔“ ( زیر مدینہ اسی ) اسی عنوان کے تحت ۷-۱۲،۸ / مارچ کے پرچوں میں آپ کی نقاہت کا ذکر ہے اور ۸/ اپریل کی اشاعت میں نقاہت بہت زیادہ ہو جانا مرقوم ہے۔(۱۳، ۲۰ / مارچ کے پر چوں میں جو افاقہ لکھا ہے وہ نبتی امر ہے ) ۳ رمئی کو گذشتہ روز کے متعلق لکھا ہے :- " حضرت مولوی سید سرور شاہ صاحب شدید بیمار ہیں۔کل سے غشی طاری ہے آج شام تک کوئی افاقہ نہیں ہوا۔“ (زیر مدینہ اسی )