اصحاب احمد (جلد 5) — Page 169
۱۷۳ المال مقرر کیا ہے۔ناظر اعلیٰ مکر می مولوی شیر علی صاحب، ناظر تالیف و اشاعت مگر می مولوی شیر علی صاحب، ناظر تعلیم و تربیت مکر می مولوی سید سرور شاہ صاحب، بقیہ حاشیہ جلسہ سالانہ ۱۹۱۹ء میں صیغہ تعلیم وتربیت کی رپورٹ آپ نے سنائی ۵۲ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ناظر تعلیم وتربیت کے بیرون قادیان جانے پر آپ ۲۷-۸-۱۳ سے قائم مقام مقرر ہوئے۵۳ زیر مدینہ اسیح ، الفضل میں مرقوم ہے :- ” جناب مولوی سید سرور شاہ صاحب ناظر تعلیم و تربیت کا کام سرانجام دے رہے ہیں۔۵۴ ۱۹۳۱-۳۲ء میں ناظر تعلیم و تربیت کی غیوبت میں پانچ افراد نے ان کا کام اپنی ذمہ داریوں کے علاوہ کیا۔ان میں سے ایک مولوی صاحب تھے۔(سالانہ رپورٹ ص ۴۰ ) چونکہ تمام عرصہ کی سالانہ رپورٹس طبع نہیں ہوئیں اس لئے یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ دسمبر ۱۹۱۸ء میں ناظر تعلیم و تربیت مقرر ہونے پر آپ نے کتنا عرصہ اس فرض کو متواتر سرانجام دیا۔تالیف و تصنیف۔۱۹۱۶ ء ،۱۹۲۰ء ، ۱۹۳۸ء کی اس رنگ کی خدمات کا قلمی خدمات کے زیر -9 - 1+ عنوان ذکر کیا گیا ہے۔افتاء۔دسمبر ۱۹۱۸ء میں افتاء کے لئے مولوی محمد اسمعیل صاحب فاضل، حافظ روشن علی صاحب اور آپ کو مقرر کیا گیا۔۵۵ نظارت تعلیم و تربیت کی طرف سے آپ کا اور حافظ صاحب کا مشترکہ فتویٰ شائع کیا گیا۔۵۶، نظارت ہذا کی تجویز پر کہ ایسے مسائل میں جن میں علماء سلسلہ کا اختلاف ہو، ایک مجلس افتاء مقرر کی جائے۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے آپ اور میر محمد اسحق صاحب وغیرہ تین علماء پر مشتمل ایک مجلس کی منظوری عطا فرمائی۔۵۷ ویسے غیر مختلف مسائل کے لئے آپ ہی تا وفات مفتی سلسلہ رہے۔گو یہ معین طور پر معلوم نہیں ہو سکا کہ کب سے بطور مفتی آپ کے کام سپر د تھا۔لیکن ۱۹۲۶ء سے تو آپ ضرور یہ خدمت سرانجام تھے۔کیونکہ اس سال کی مشاورت میں حضور نے اس امر کا ذکر فرمایا ہے۔۵۸ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے غربت کے مداوا کی خاطر بیمہ زندگی کے مروجہ طریق کی بجائے شرعا جائز طریقہ تعاون پر غور کرنے کے لئے ایک کمیٹی مقررفرمائی تاوہ حضور کی مجوزہ سکیم پر غور کر سکے۔اس کے دس ممبروں میں آپ بھی شامل تھے۔۵۹