اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 93 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 93

۹۳ تذکرہ فرماتے رہے۔“ ۳۳ اعجاز احمدی کا مزید ذکر ۱۲ نومبر ۱۹۰۲ء سے سیر ملتوی رہی اور آج بھی آپ باہر تشریف نہیں لے گئے۔ظہر کی نماز میں اعجاز احمدی کے متعلق کچھ ذکر ہوتا رہا۔۳۴ ( دربار شام) اعجاز احمدی کا تذکرہ مختلف صورتوں میں ہوتا رہا۔۳۵ ( صبح کی سیر ۱۷/ نومبر ۱۹۰۲ء) اعجاز احمدی کے متعلق تذکرہ ہوتا رہا اور فرمایا کہ صرف یہی حیلہ کریں گے کہ اگر ہم چاہتے تو جواب لکھ سکتے ہیں۔فرمایا ان کی مثال تو اس شخص کی سی ہے جس نے مشتہر کیا کہ میری بکری شیر کو مارتی ہے اور جب لوگوں نے اسے دیکھنا چاہا تو کہہ دیا جب اس کا ارادہ ہو اس وقت مارتی ہے۔اس وقت اس کا ارادہ نہیں۔بس اس قسم کے حیلے حوالے کریں گے۔‘۳۶ے اعجازی احمدی کے بعض شعر الہامی ہیں ۵/ نومبر ۱۹۰۲ء کے دربار شام کے متعلق مرقوم ہے کہ :- جدید اعجازی تصنیف کے متعلق ذکر کر کے فرمایا کہ میں جس طرح کلمہ پر شہادت دیتا ہوں اسی بصیرت اور یقین کے ساتھ میں اس بات پر ایمان رکھتا ہوں کہ یہ خدا تعالیٰ کی تائید اور نصرت ہے اور ایک عظیم الشان کلام معجزہ ہے جس کی نظیر لانے پر کوئی قادر نہیں ہو گا۔بہت سے شعر ایسے ہیں کہ الہامی ہیں۔میں اس طرز کو بیان نہیں کر سکتا جس طرح پر یہ خدا کی طرف سے آتے ہیں۔کوئی فکر اور غور کی ضرورت نہیں پڑتی خود بخود چلے آتے ہیں اور دل میں ایک القاء ہوتا چلا جاتا ہے۔وحی دو قسم کی ہوتی ہے ایک خفی اور ایک جلی۔یہ وحی جو اس تصنیف میں ہو رہی ہے یہ وحئی خفی ہے۔اس میں غیبت حسن نہیں ہوتی اور نہ قوة متفکرہ سے کام لینا پڑتا ہے۔میں نہیں سمجھ سکتا کہ یہ امور میں کس طرح پر بیان کروں جو دوسرے اس کو سمجھ لیں۔میں حلفا کہتا ہوں کہ جیسے ایک نالی چلتی ہے اسی طرح پر یہ مضامین آتے ہیں۔خدا تعالیٰ اس وقت فوق العادت طاقت دے رہا ہے اور سارے سامان اس نے پہلے سے کر دیئے ہیں۔قرآن شریف کی فصاحت و بلاغت کے دعوئی پر بعض نادان آریہ اور عیسائی کہہ دیتے ہیں کہ مقاماتِ حریری وغیرہ بھی فصیح و بلیغ ہیں مگر وہ یہ نہیں بتا سکتے کہ ان میں یہ دعوی کہاں کیا گیا ہے اور ان کتابوں میں کہاں پر بتصریح لکھا گیا ہے کہ قرآن کی تحدی کے مقابلہ میں ہیں اور علاوہ ازیں ان کو قرآن کے مقابلہ میں پیش کرنا بالکل لغو ہے کیونکہ قرآن شریف میں حقائق اور معارف کو بیان کیا گیا ہے اور ان کتابوں میں صرف لفظوں کا