اصحاب احمد (جلد 5) — Page 87
۸۷ -2 -^ (مغرب و عشاء) ” بعد ادائے نماز مغرب حضرت اقدس حسب معمول جلوس فرما ہوئے۔۔۔۔۔پھر حضرت اقدس مد کے مباحثہ پر ذکر اذکار کرتے رہے جس کی نسبت گذشتہ کالموں میں ذکر ہو چکا ہے پھر فرمایا کہ اس دن ہم نے مناسب سمجھا تھا کہ یہ مباحثہ کی کارروائی الحکم وغیرہ میں نہ چھپے۔مگر خدا کو یہ منظور نہ تھا۔۔۔سیر (۴ / نومبر ۱۹۰۲ء) ( بعد نماز فجر ) ” حضرت اقدس سیر کے لئے تشریف لائے۔۔۔۔پھر سرورشاہ صاحب سے حضرت اقدس کچھ گفتگو ان کے سفر امرتسر کے متعلق کرتے رہے ایک مقام پر فرمایا کہ ہم نے مالی انعامات دے دے کر ان لوگوں کو اپنے مقابلہ پر بلایا مگر یہ لوگ نہ آئے۔مگر ہم دینے سے تھکے نہیں ابھی اور دیویں گے اور اگر وہ اسے قبول نہ کریں گے تو گویا اپنے ہاتھوں سے ایک اور پیشگوئی ہمارے حق میں پوری کر دیں گے وہ یہ ہے کہ حدیث شریف میں ہے کہ صیح مال دے گا اور لوگ نہ لیں گے تو اگر انکار کرتے ہیں تو اپنے ہاتھ سے اسے پورا کرتے ہیں۔“ و گفتگو میں ایسے مقامات پر ہونی چاہئیں جہاں رؤساء بھی جلسہ میں ہوں اور تہذیب اور نرم زبانی سے ہر ایک بات کریں کیونکہ دشمن جب جانتا ہے کہ محاصرہ میں آگیا تو وہ گالی اور درشت زبانی سے پیچھا چھڑانا چاہتا ہے۔طالب حق بن کر ہر ایک بات کرنی چاہیئے اور یہ امریج ہے۔ہمارے حق پر ہونے کی یہ علامت ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَا غُلبَنَّ اَنَا وَرُسُلِی۔اگر ہم حق پر نہیں ہیں تو ہم غالب نہ ہوں گے۔ہم نے ان کو کئی بار لکھا ہے کہ سب متفق ہو جاویں کوئی عیب نہیں ہے۔ہماری طرف سے ان کو اجازت ہے۔ان تمام مولویوں میں سے بہت ایسے ہیں کہ عربی لکھتے ہیں بلکہ اشعار بھی کہتے ہیں مگر ہمارے مقابل پر خدائے تعالیٰ ان کی زبان بند کر دیتا ہے اور ان کو ایسا امر پیش آتا ہے کہ چپ رہ جاتے ہیں۔پھر مکان قریب آ گیا اور حضرت اقدس السلام علیکم کہہ کر تشریف لے گئے۔“ -9 - 1+ وو (ظہر ) " پھر انہیں امور کا ذکر ہوتا رہا جو کہ سیر میں بیان ہوئے۔“ ۲۵ ۵/نومبر ۱۹۰۲ء سیر بعد صبح کے متعلق مرقوم ہے :- " محمد یوسف صاحب اپیل نویس نے بیان کیا کہ حضور محمد کے مباحثہ میں ایک اعتراض یہ بھی کیا گیا تھا کہ مرزا صاحب تمہاری آنکھ کیوں نہیں اچھی کر دیتے۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ جواب دینا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک اندھا تھا۔جیسے لکھا ہے عَبَسَ وَتولَّی ان جَآءَ هُ الْأَعْمَیٰ وہ کیوں اچھا نہ ہوا۔حالانکہ آپ تو افضل الرسل تھے اور بھی اندھے تھے۔ایک دفعہ سب نے کہا کہ یا حضرت ! ہمیں جماعت میں شامل ہونے کی بہت تکلیف ہوتی ہے۔آپ نے حکم دیا کہ جہاں تک اذان کی آواز پہنچتی ہے وہاں تک کے مؤطا امام مالک کتاب نداء الصلوۃ باب ما جاء فی القرآن