اصحاب احمد (جلد 5) — Page 84
۸۴ حضرات کے باپ نے بھی نہیں دیکھی ہوں گی۔مگر ان کے نام سُنا دیتے ہیں تا کم سے کم یہی سمجھا جائے کہ بڑے مولوی صاحب ہیں جو اتنی کتابیں جانتے ہیں۔“ کا۔-۱۴ د بعض چالاک مولوی کہتے ہیں کہ اگر کوئی آسمان سے بھی اُترے اور یہ کہے کہ فلاں فلاں حدیث جو تم جانتے ہو صحیح نہیں ہے تو ہم کبھی قبول نہ کریں گے اور اس کے منہ پر طمانچہ ماریں گے۔۱۸ پھر مولوی ثناء اللہ صاحب کہتے ہیں کہ آپ کو مسیح موعود کی پیشگوئی کا خیال کیوں دل میں آیا۔آخر وہ -10 حدیثوں سے ہی لیا گیا۔پھر حدیثوں کی اور علامات کیوں قبول نہیں کی جاتیں۔19 حضور علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں :- میں اب خیال کرتا ہوں کہ جو کچھ مولوی ثناء اللہ صاحب نے مباحثہ موضع مد میں فریب دہی کے طور پر اعتراض پیش کئے تھے سب کا کافی جواب ہو چکا ہے۔ہاں یاد آیا ایک یہ بھی خیال انہوں نے پیش کیا تھا کہ جو کسوف خسوف کی حدیث مہدی کے ظہور کی علامت ہے جو دار قطنی اور کتاب اکمال الدین میں موجود ہے اس -17 میں قمر کا خسوف تیرہ تاریخ سے پہلے کسی ایسی تاریخ میں ہوگا جس میں چاند کو قمر کہہ سکتے ہوں۔“ ۲۰ ایک اور بات رہ گئی جس کا بیان کرنا لازم ہے اور وہ یہ کہ مد کے مباحثہ میں جب ہمارے مخلص دوست سید محمد سرور شاہ صاحب نے اعجاز اسیح کو جو میری عربی کتاب ہے بطور نشان کے پیش کیا کہ یہ ایک معجزہ ہے اور اس کی نظیر پر مخالف قادر نہیں ہوئے۔تو مولوی ثناء اللہ صاحب نے مولوی محمدحسین بٹالوی کا حوالہ دے کر کہا کہ انہوں نے اعجاز اسیح کی غلطیوں کے بارے میں ایک لمبی فہرست تیار کی ہے۔ہم مانتے ہیں کہ تیار کی ہو گی مگر وہ ایسی ہی فہرست ہوگی جیسا کہ پہلے مولوی صاحب موصوف نے میرے ایک فقرے پر اعتراض کیا تھا کہ عجب کا لام صلہ نہیں آتا اور اس پر بہت زور دیا تھا اور جب ان کو کئی قدیم استادوں اور جاہلیت کے شاعروں کے شعر بلکہ بعض حدیثیں دکھلائی گئیں جن میں لام صلہ آیا ہے تو پھر مولوی صاحب چاہ ندامت میں ایسے غرق ہو گئے کہ ان کا ادیب رفیق بھی اس کنوئیں سے ان کو نکال نہ سکا۔“ ۲۱ ایک اعتراض یہ تھا کہ مرزا صاحب محمد یوسف صاحب اپیل نویس کی آنکھ کیوں نہیں اچھی کر دیتے۔۲۲ -12 مجالس میں ذکر حضرت اقدس علیہ السلام اپنی گیارہ مجالس میں اس کا ذکر فرماتے رہے۔اس بارے میں اقتباسات درج ذیل ہیں :- ( عصر - ارنومبر ۱۹۰۲ء ) اس وقت حضرت اقدس نے نماز سے پیشتر مجلس فرمائی۔سید سرور شاہ -1