اصحاب احمد (جلد 4) — Page 88
۸۸ میں سے تھے اس لئے ان کی قبر خاص صحابہ کے قطعہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مزار کے قریب تر تیار کرائی جائے۔چنانچہ قبروں جاری شدہ لائنوں کو ترک کر کے جہاں اس لائن کے وسط میں ایک پہلے سے تیار شدہ قبر موجود تھی۔اس کے ساتھ کی لائن میں رستہ کے اوپر نئی قبر تیار کی گئی۔تا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ مقرب صحابی جو موجودہ صحابیوں میں سے غالباً سب سے سابق تھا اپنے محبوب کے مزار کے قریب تر جگہ پاسکے۔اس کے علاوہ میں نے مقامی امیر حضرت مولوی شیر علی صاحب کی خدمت میں عرض کر کے قادیان کے تمام محلہ جات میں جنازہ کی شرکت کے لئے ایک ابتدائی اعلان بھی کروا دیا۔نماز جنازہ اور تدفین جنازہ عصر کی نماز کے بعد بذریعہ لاری قادیان پہنچا۔چونکہ اس وقت نماز مغرب کا وقت قریب تھا۔اور آخری اعلان کے لئے وقت کافی نہیں تھا اس لئے یہ تجویز کی گئی کہ نماز جنازہ مغرب کے بعد ہو۔اور اس عرصہ میں دوبارہ تمام محلوں کی مساجد میں نماز مغرب کے وقت آخری اعلان کرایا گیا تا کہ دوست زیادہ سے زیادہ تعداد میں شریک ہوں۔چنانچہ الحمد للہ کہ باوجود اس کے کہ رات کا وقت تھا اور گرمی کی بھی شدت تھی۔تمام محلہ جات سے لوگ کافی کثرت کے ساتھ شریک ہوئے اور مدرسہ احمدیہ کے صحن میں نماز جنازہ ادا کرنے کے بعد حضرت منشی صاحب کو بہت سے مومنوں کی دعاؤں کے ساتھ مقبرہ بہشتی کے خاص قطعہ میں دفن کیا گیا۔( یاد رکھنا چاہئے کہ یہ قطعہ ویسے کوئی خصوصیت نہیں رکھتا۔سوائے اس کے کہ پرانے صحابہ کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مزار کے قریب ترین حصہ میں ایک پلاٹ ریز رو کر دیا گیا ہے۔تا کہ اس حصہ میں دفن ہوکر السابقون الاولمدن اپنے محبوب آقا کے پاس جگہ