اصحاب احمد (جلد 4) — Page 83
۸۳ ہیں؟ حضور نے فرمایا کہ میرے دل میں ایک معصیت کا خیال گزرا کہ اللہ تعالیٰ نے کام تو اتنا بڑا میرے سپرد کیا ہے اور ادھر صحت کا یہ حال ہے کہ آئے دن کوئی نہ کوئی شکایت رہتی ہے۔اس پر مجھے الہام ہوا کہ ”ہم نے تیری صحت کا ٹھیکہ لیا ہے۔اس سے میرے قلب پر بیحد ہیبت طاری ہے کہ میں نے ایسا خیال کیوں کیا۔ادھر تو یہ الہام ہوا مگر جب اٹھا تو ہاتھ بالکل صاف ہو گئے اور خارش کا نام ونشان نہ رہا۔ایک طرف اس پر شوکت الہام کو دیکھتا ہوں دوسری طرف اس فضل و رحم کو تو میرے دل میں اللہ تعالیٰ کی عظمت اور جلال اور اس کے کرم کو دیکھ کر انتہائی جوش پیدا ہو گیا ہے اور بے اختیار آنسو جاری ہو گئے۔اپنے مولیٰ پر ناز حضرت منشی صاحب نے جب یہ واقعہ بیان کیا تو خود بھی چشم پر آب ہو گئے۔فرماتے تھے کہ میں نے جب حضرت مسیح موعود مہدی معبود کے آنسو بہتے دیکھے تو میرے دل میں یہ آیا کہ کوئی خاص صدمہ ہوا ہے اور میں اس کی تلافی کے لئے اپنے نفس میں ہر قسم کی قربانی کا صحیح جوش پاتا تھا۔میری طبیعت میں اس قدر کرب اور اضطراب پیدا ہوا کہ میں نے مجنونانہ حضور سے سوال کر دیا اور جب آپ نے اس کی وجہ بتائی تو میری محبت اور ادب کا رنگ بہت تیز ہو گیا۔فرماتے تھے کہ میں تو پہلے ہی یقین کرتا تھا کہ حضرت کو اپنے مولا پر ناز ہے۔لیکن جب اس واقعہ کو بچشم خود دیکھا تو باوجود یکہ آپ سے انتہائی محبت اور بے تکلفی تھی۔مگر طبیعت میں ادب اور آپ کی عظمت بہت بڑھ گئی۔اور پھر تو میں اپنی طبیعت پر جبر کر کے آپ کے چہرہ کو دیکھتا تھا۔کیونکہ اسی دن سے طبیعت پر آپ کی شان و شوکت کا دوسرا رنگ نمایاں ہو گیا۔,, یہ واقعہ لدھیانہ کا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ان ایام