اصحاب احمد (جلد 4) — Page 28
۲۸ بعض دوست جو کپورتھلہ کی ملازمت سے پنشن یاب ہوکر دوسری جگہ اپنے وطنوں کو چلے گئے گا ہے گا ہے آپ سے ملاقات کے لئے کپورتھلہ آتے۔ایسے دوستوں کی آمد سے آپ خاص لذت محسوس کرتے تھے۔اسی طرح ایک پرانے دوست ہر سال ملاقات کے لئے آیا کرتے تھے اور سوائے والد صاحب کی ملاقات کے ان کی کوئی غرض نہ ہوتی تھی۔بہت دنوں تک وہ ٹھہرے رہتے۔ہفتہ عشرہ یا ایک مہینہ۔ان کی مدارات میں کوئی کمی نہ کی جاتی۔بلکہ روز بروز زیادہ محبت کا اظہار ہوتا۔وہ جانے لگتے تو کسی نہ کسی بہانے سے روک لیا جاتا۔یہ دوست ایک دفعہ مسجد کے مہمان خانہ میں ٹھہرے ہوئے تھے۔میرا چھوٹا بھائی جو بہت کم عمر تھا۔ان کی خدمت کرتا تھا۔یہ دوست تدخین یو کے عادی تھے۔میرا چھوٹا بھائی چند دن خدمت کرتا رہا۔لیکن آخر ایک دفعہ اس مطالبہ سے اس نے انکار کر دیا اور کراہت کا اظہار کیا۔صبح والد صاحب کو جب یہ علم ہوا تو میرے چھوٹے بھائی کو بہت قدغن کی کہ اتنی دور سے میرا دوست مجھ سے ملنے کے لئے آتا ہے اس کی ہر خدمت ہونی چاہیئے۔اگر تم یہ خدمت نہیں کر سکتے تو اب میں مہمان خانے میں سویا کروں گا اور یہ خدمت بھی اپنے ہاتھ سے بجالاؤں گا۔یہ تنبیہ سن کر میرا چھوٹا بھائی نادم ہوا۔اور پھر اس نے کوئی خدمت کرنے سے انکار نہیں کیا۔میں جب روائتیں لکھتا تو آپ کمزور اور بوڑھے ہو چکے تھے۔لیٹے لیٹے روائتیں بیان کرتے اور آپ پر ایک عجیب کیفیت طاری ہو جاتی۔بعض دفعہ حضرت صاحب کی کامیابیوں اور مخالفین کی شکست کا ذکر کرتے کرتے خوش ہو کر اٹھ بیٹھتے اور خوشی سے چہرہ تمتما اٹھتا۔اور ہنتے اور خوب خوش ہوتے۔بعض دفعہ حضور کی شفقتوں اور نوازشوں کا ذکر کر کے چشم پر آب ہو جاتے۔آواز رک جاتی اور سلسلہ روایات دوسرے دن پر ملتوی ہو جاتا۔یہ عجیب پر کیف نظارے تھے۔دل پر ان کا نقش ہے۔لیکن زبان اس کے بیان کرنے سے قاصر ہے۔اے محبت عجب آثار نمایاں کردی : حقہ کا استعمال کرنا زخم و مرہم برہ یار تو یکساں کر دی