اصحاب احمد (جلد 4)

by Other Authors

Page 27 of 253

اصحاب احمد (جلد 4) — Page 27

۲۷ آکر اس کی ملاقات کرنا۔اچھا کھانا تیار کرنے کے لئے گھر میں ہدایت کر دینا۔یہ آپ کا معمول تھا۔لیکن اس کے علاوہ ہمیشہ یہ دستور دیکھا گیا کہ آپ مہمان کو ساتھ لے کر مسجد میں آبیٹھتے اور اس کی خیریت وغیرہ دریافت کرنے کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حالات وغیرہ بیان کرنے لگتے۔یہ حالات بیان کرنے میں آپ کو ایک ذوق اور سرور حاصل ہوتا اور گھنٹوں یہ ذکر جاری رہتا۔بہت سے احباب نے اس طریق پر سلسلہ کے تاریخی حالات سنے اور میرا یہ علم ہے کہ سننے والوں پر ایک مستقل اخلاص کا رنگ آجا تا تھا۔کپورتھلہ کا لج میں بیر ونجات سے اور دیگر اضلاع سے طلباء آکر تعلیم پاتے اور بہت دفعہ والد صاحب کی صحبت میں بیٹھتے اور آپ کا یہ معمول تھا کہ نو جوانوں کو سلسلہ کے حالات اور روایات سے باخبر کرتے یہ حالات سنانے میں آپ ان تھک تھے بلکہ اس سے کیف وسرور آپ کو حاصل ہوتا۔یہی نہیں کہ جن لوگوں کو یہ حالات معلوم نہیں تھے ان کو آپ حالات سناتے بلکہ ایک عجیب بات ہے کہ جو رفیق آپ کے ہم عصر تھے اور اکٹھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں آپ کے ساتھ رہے تھے۔وہ خود بھی ان حالات اور روایات کے چشم دید گواہ تھے۔جب ایسے لوگ آپ سے ملاقی ہوتے۔تو پھر از سرنو ان حالات کا تذکرہ کرتے۔ایک دوسرے کو سناتے اور ان روایات کی آپس میں تائید و تصدیق کرتے۔یا بھولی ہوئی باتوں کو یاد دلاتے۔مولوی عبداللہ صاحب سنوری اوّلین صحابہ میں سے تھے اور والد صاحب کے یک رنگ دوست تھے۔بعض دفعہ ملاقات کے لئے کپورتھلہ آجاتے۔اور پھر دونوں بیٹھ کر ذکر حبیب میں محو ہو جاتے اور ایک دوسرے کو حالات سناتے اور سنتے پرانی باتیں تازہ کرتے اور اس ذکر و گفتگو میں ایسے محو ہو جاتے کہ نہ کھانے کے وقت کا خیال رہتا نہ کسی اور بات کا کبھی آب دیدہ ہو جاتے کبھی زار و قطار روتے اور کبھی بعض باتوں کو یاد کر کے ہنستے اور خوش ہوتے یہ عجیب پر کیف نظارہ ہوتا ذوق این باده نیابی بخدا تا نه غرض یہ ہے کہ مہمان کی خاطر و مدارات میں مسیح موعود علیہ السلام کے حالات اس کو سنانا بھی ایک غذا ہوتی۔من احب شيئا فأكثر ذكره