اصحاب احمد (جلد 4)

by Other Authors

Page 24 of 253

اصحاب احمد (جلد 4) — Page 24

۲۴ ان کا ایک محبوب اور موجب ثواب مشغلہ تھا۔سات سال تک یہ مقدمہ جاری رہا۔اتفاقاً دوران مقدمہ میں منشی فیاض علی صاحب نے لدھیانہ کے مقام پر ایک محفل میں بڑے عجز و الحاح کے ساتھ آبدیدہ ہو کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے عرض کیا کہ ہم سے مسجد چھن گئی ہے حضور دعا فرمائیں کہ یہ ہمیں مل جائے۔حضرت صاحب نے اس وقت بڑے جلال کے رنگ میں فرمایا کہ: اگر میں سچا ہوں اور میرا سلسلہ سچا ہے تو مسجد تمہیں ضرور ملے گی صداقت کے بیان کرنے میں منشی فیاض علی صاحب بڑے بے دھڑک آدمی تھے۔انہوں نے لدھیانہ سے واپس آکر مخالفین سے اعلانیہ اس بات کا اظہار کیا کہ حضرت صاحب نے یہ الفاظ فرمائے ہیں۔اب انتظار کرو۔فَانْتَظِرُوا إِنِّي مَعَكُمْ مِنَ الْمُنْتَظِرِينَ - دوران مقدمہ میں اس قسم کی تحدی اور مخالفین سے اظہار احتیاط کے خلاف معلوم ہوتا ہو تو ہو۔لیکن منشی صاحب نے حضرت صاحب کے منہ سے مندرجہ بالا الفاظ سنے تھے اور ان کے واہمہ میں یہ بات نہ آسکتی تھی کہ یہ بات اب غیر یقینی ہو سکتی ہے۔نوبت یہاں تک پہنچی کہ محلہ کے ایک ڈاکٹر صاحب کے ساتھ منشی صاحب کی شرط بندھ گئی کہ اگر مسجد احمدیوں کو مل جائے تو وہ ڈاکٹر حضرت صاحب کی بیعت کرے گا۔ورنہ منشی صاحب اپنی بیعت سے دستکش ہوں گے۔یہ بات ٹھن گئی اور اس سے ظاہر ہے کہ دونوں فریق کو اپنی اپنی کامیابی کے متعلق کسی قسم کا کوئی شک نہ تھا۔بالآخر مسجد کا فیصلہ احمدیوں کے حق میں ہوا۔اور نہایت مخالفانہ حالات کے باوجود ہوا۔آخری عدالت کے حاکم نے ہمارے خلاف فیصلہ کرنا چاہا۔وہ بحث سن چکا تھا۔اور مخالفانہ انداز خیال کر چکا تھا۔بحث کے بعد مقدمہ فیصلہ پر رکھا گیا کہ ایک دن وہ کچہری آنے کی تیاری میں تھا کہ اچانک اس کی موت واقع ہوگئی۔یعنی حرکت قلب بند ہو جانے سے منشی عبدالسمیع صاحب خلف منشی عبدالرحمن صاحب جن کا اوپر ذکر ہوا۔ایک روز پیشتر یہ رویاء دیکھ چکے تھے۔کہ کسی شخص نے بازار میں منشی عبدالسمیع صاحب سے یہ ذکر کیا ہے کہ اس حاکم کی اچانک موت واقع ہو گئی ہے۔دوسرے دن من وعن یہ واقعہ ظہور میں آیا۔اور