اصحاب احمد (جلد 4)

by Other Authors

Page 23 of 253

اصحاب احمد (جلد 4) — Page 23

مدفون ہوئے۔۲۳ ان کے ایک ہی خلف الرشید منشی عبدالسمیع صاحب ہیں اور اپنے والد صاحب کے رنگ میں رنگین۔وہی زہد و تعبد اور فقر وغنا اور سوز و گداز ان میں بھی ہے۔مجھ سے عمر میں بڑے ہیں۔لیکن بچپن سے اب تک مسلسل اخلاص و محبت کا رشتہ ہم میں قائم ہے۔الله علی ذالک الحمد حضرت منشی فیاض علی صاحب رضی اللہ عنہ اور مسجد کپورتھلہ کا مقدمہ اور فیصلہ منشی فیاض علی صاحب قصبہ مرادہ ضلع میرٹھ کے رہنے والے تھے گویا منشی عبد الرحمن صاحب کے قصبہ سے ہی آکر محکمہ جنگی کپورتھلہ میں ملازم ہوئے ان کی طبیعت کا رنگ جدا گانہ تھا۔بے دھڑک اور بے دریغ تبلیغ کرتے تھے۔آپ کا نام ۳۱۳ میں ہے آریوں کے ساتھ مناظرہ اور لے دے رکھتے تھے۔عیسائیوں سے گفتگو کرتے اور کسی جگہ بند نہ ہوتے خوب خوب اعتراض اور جوابات بروئے کار لاتے۔جب مسجد احمد یہ کپورتھلہ پر مخالفین نے قبضہ کر لیا اور احمدیوں کو عدالت میں دعویٰ کرنا پڑا۔تو شہر کے عمائد اور رؤسا مد عاعلیہ تھے۔احمدی چند ا حباب تھے جو انگلیوں پر گنے جاسکتے ہیں۔ان کا رسوخ واثر کوئی نہ تھا۔مقدمے میں کفر و اسلام کی بحثیں ہوتی تھیں۔مولویوں کی نئی نئی مخالفت تھی۔والد صاحب کی پر زور تحریری بحثیں مسل سے منسلک میں نے دیکھی ہیں۔فریق مخالف بھی تحریری بحثیں داخل کرتا تھا۔جماعت کپورتھلہ مسجد چھن جانے کے لحاظ سے بے کس اور مظلوم تھی۔لیکن حالات تمام غیر موافق تھے۔جو شخص یہ یقین کرتا کہ مسجد احمدیوں کومل جائیگی۔کپورتھلہ کے اس ماحول میں یقیناً اسے کوتاہ اندیش تصور کیا جاتا۔مخالفین کو یقین کامل تھا کہ عدالت ان کے حق میں فیصلہ کرے گی۔میں نے بچپن میں ان مخالفین کے یہ تیور خود دیکھے ہیں۔احمدیوں کے راستے تک بند تھے۔منشی عبدالرحمن صاحب چکر کاٹ کر گھر کو جاتے۔حافظ امام الدین صاحب امام مسجد احمدیہ کو پیٹا گیا۔اور گھسیٹا گیا۔ان کی پگڑی میں آگ پھینکی گئی۔گالی گلوچ ایک عام بات تھی۔بعض آوارہ طبع لوگ راستہ روکے رہتے تھے اور احمدیوں کو ستانا اور ان کو گالی دینا