اصحاب احمد (جلد 4)

by Other Authors

Page 21 of 253

اصحاب احمد (جلد 4) — Page 21

۲۱ سے قرب کا موجب ہے۔اس سے ظاہر ہے کہ حضرت خلیفہ مسیح اول کو کس قدر انتہائی عشق حضرت صاحب سے تھا۔غرض اس واقعہ کے بیان کرنے سے یہ ہے کہ خدمت سلسلہ کے لئے کوئی نہ کوئی خصوصیت حاصل ہونی چاہیئے۔خواہ کسی رنگ میں ہو چھوٹی چھوٹی باتوں میں بھی کوئی خصوصیت پیدا کر لینا بعض وقت بہت مفید ہوتا ہے۔خوب است که آدم ہنری داشته باشد حضرت منشی عبدالرحمن صاحب کی امانت و دیانت منشی عبدالرحمن صاحب کا ذکر تھا۔میں بات کرتے کرتے آگے نکل گیا۔منشی صاحب نے پچپن سال ملازمت کی۔اس زمانے میں افسر اعلیٰ کی مرضی پر موقوف ہوتا تھا۔کہ حق پنشن کے بعد بھی مناسب اور قابل شخص کو ملا زمت میں توسیع دیتا رہے۔منشی صاحب ایک طویل عرصہ تک ناظر محکمہ جنگی رہے۔لاکھوں روپے کا حساب کتاب تھا۔کئی کمانڈر انچیف آئے اور گئے سب منشی صاحب کی دیانت اور خدمت گزاری کے قدردان تھے۔۵۵ سال کے بعد منشی صاحب سبکدوش ہوئے تو حساب میں کوئی بقایا آپ کے ذمہ نہ تھا۔حالانکہ نظارت کا عہدہ حسابات کے لحاظ سے بڑا مشکل اور پیچیدہ معاملہ ہے۔کم کوئی ایسے شخص ہوں گے جو حسابات کی الجھنوں سے پاک نکلیں لیکن منشی صاحب کا رویہ ایسا تھا کہ بگیر درس تعلق ولا ز مرغابی بود در آب چو برخاست خشک برخاست منشی صاحب کی دیانت مندرجہ ذیل دو واقعات سے بھی ہویدا ہے اور نیز یہ کہ آپ تقویٰ کی کس قدر باریک راہوں پر چلنے والے تھے۔اوّل: پنشن پانے کے بعد منشی صاحب نے اپنی ملازمت کا پھر محاسبہ کیا۔اور یہ محسوس کیا کہ وہ سرکاری سٹیشنری میں سے غریب طلباء یا بعض احباب کو وقتا فوقتا کوئی کاغذ قلم دوات یا نسل دیتے رہے ہیں بات یہ تھی کہ محلے کے طلباء بچے یا دوست احباب منشی صاحب