اصحاب احمد (جلد 4)

by Other Authors

Page 20 of 253

اصحاب احمد (جلد 4) — Page 20

کتاب کا مطالعہ کیا۔اور انہیں بھی محبت پیدا ہوئی۔اس کے بعد اتفاق ایسا ہوا کہ والد صاحب جالندھر اپنے ایک رشتہ دار کو ملنے گئے ہوئے تھے کہ حضرت صاحب بھی کسی سفر کے اثناء میں جالندھر ٹھہرے اور بعد کا واقعہ والد صاحب کی روایات میں مفصل درج ہے۔اور جیسا کہ اس روایت میں مذکور ہے۔والد صاحب کی آمد و رفت قادیان شروع ہوگئی۔یہ ۱۸۸۴ء۔۱۸۸۵ء کے قریب کا واقعہ ہے۔والد صاحب نے بہت دفعہ حضرت صاحب سے عرض کیا کہ حضور بیعت لے لیں۔لیکن حضور نے انکار فرمایا کہ مجھے حکم نہیں ہے۔جب لدھیانہ سے حضور نے بیعت کا اعلان فرمایا تو والد صاحب و محمد خاں صاحب اور منشی اروڑا صاحب کے نام ایک خط لکھا کہ آپ بیعت کے لئے کہا کرتے تھے۔مجھے اب اذن الہی ہو چکا ہے۔اس خط کے مطابق مذکورہ اصحاب نے لدھیانہ پہنچ کر بیعت کی جیسا کہ اوپر ذکر ہے۔ادب وانشاء والد صاحب صحیح معنوں میں منشی تھے یعنی انشاء پرداز تھے۔اس میں آپ کی ابتدائی تعلیم اور بعدش حضرت صاحب کی کتب کا کثرت مطالعہ موثر تھے۔علاوہ ازیں بہت پاکیزہ خط اور زود نویسی کا ملکہ بھی خاص تھا۔اور یہ امور بھی حضرت صاحب سے قرب کا باعث ہوئے۔چنانچہ جب والد صاحب قادیان ہوتے تو حضور کی ڈاک اور جوابات کا لکھنا والد صاحب کے سپرد ہوتا۔بہت دفعہ حضرت صاحب اشتہار ومضامین بول کر والد صاحب سے لکھواتے۔جنگ مقدس یعنی آتھم والا مباحثہ بھی والد صاحب کا لکھا ہوا ہے۔اس طریق پر کہ حضرت صاحب تقریر فرماتے جاتے تھے۔اور والد صاحب اور خلیفہ نورالدین صاحب جموں والے لکھتے جاتے خلیفہ صاحب موصوف بھی زود نو لیس تھے اس زمانے میں شارٹ ہینڈ وغیرہ نہیں تھا۔بلکہ زود نویسی کی بدولت بھی بہت سی خدمات کا موقعہ والد صاحب کو ملا۔حضرت خلیفہ اسیح اوّل جو اس وقت مولانا نورالدین تھے۔ایک دفعہ والد صاحب سے فرمانے لگے کہ مجھے آپ پر رشک آتا ہے۔کیونکہ آپ کا زود نو لیس ہونا بھی حضرت صاحب