اصحاب احمد (جلد 4) — Page 19
۱۹ کے بیعت کرتے وقت حضرت صاحب نے دریافت فرمایا آپ کے رفیق کہاں ہیں؟ یہ رفیق کا لفظ بقول والد صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام اکثر استعمال فرمایا کرتے تھے۔والد صاحب نے عرض کی کہ منشی اروڑا صاحب نے تو بیعت کر لی ہے اور محمد خاں صاحب غسل کر رہے ہیں۔وہ کہتے ہیں میں نہا کر بیعت کروں گا۔چنانچہ بعد میں خاں صاحب نے بیعت کی۔اور منشی عبدالرحمن صاحب کو استخارہ کرنے پر آواز آئی۔" عبد الرحمن آجا“ چنانچہ دوسرے دن آکر منشی عبدالرحمن صاحب نے بھی بیعت کر لی۔دیکھئے یہ اپنا اپنا رنگ اخلاص ہے۔ایک وہ تھے جو فوراً چل پڑے۔ایک نے انتہائی ادب کے پیش نظر غسل کر کے بیعت کرنا چاہی۔ایک نے استخارہ کو مقدم سمجھا۔ہر ایک کا اخلاص اپنے ذوق کے مطابق ظاہر ہے اور کسی کو کسی پر ترجیح دینا مشکل۔اسی قسم کا اختلاف ہے جو برکت کا موجب ہوتا ہے۔اور جس پر کوئی نکتہ چینی نہیں ہو سکتی۔گلہائے رنگ رنگ سے ہے زینت چمن اے ذوق اس جہاں کو ہے زیب اختلاف۔آغاز تعلق ، مطالعہ براہین احمدیہ اور بیعت ނ یہاں یہ ذکر کر دینا مناسب ہے کہ براہین احمدیہ جب چھپی تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کا ایک نسخہ حاجی ولی اللہ صاحب کو بھیجا جو کپورتھلہ میں مہتمم بندو بست تھے اور ہمارے پھوپھا صاحب مرحوم منشی حبیب الرحمن صاحب رئیس حاجی پور کے چاتھے۔حاجی صاحب براہین احمدیہ کا نسخہ اپنے وطن قصبہ سرادہ ضلع میرٹھ میں لے گئے۔وہاں عند الملاقات والد صاحب کو وہ کتاب حاجی صاحب نے دے دی۔والد صاحب فرماتے ہیں کہ ہم اس کتاب کو پڑھا کرتے اور اس کی فصاحت و بلاغت پر عش عش کر اٹھتے کہ یہ شخص بے بدل لکھنے والا ہے اور براہین احمدیہ کو پڑھتے پڑھتے والد صاحب کو حضرت صاحب سے محبت ہو گئی۔اس کے تھوڑے عرصہ بعد والد صاحب کپورتھلہ آگئے۔اور حاجی صاحب والد صاحب سے براہین احمدیہ پڑھوا کر سنتے۔منشی اروڑا صاحب اور محمد خاں صاحب نے بھی