اصحاب احمد (جلد 4) — Page 217
۲۱۷ بات ہے۔منشی اروڑا صاحب نے کہا کہ یہ ہمارے مرشد کا حکم ہے اس پر بہت اثر ہوا۔اور وہ پیسے ادا کئے گئے۔ا۔جب میرا لڑکا محمد احمد پیدا ہوا۔تو میں نے ابھی حضور کو اطلاع نہیں دی تھی آپ کو کسی اور نے اطلاع دے دی۔آپنے مجھے خط ارقام فرمایا۔کہ لڑکا نوزاد مبارک ہو۔اس کا نام محمد احمد رکھ دیں۔خدا تعالیٰ با عمر کرے۔حضور نے بلا میری درخواست کے یہ نوازش فرمائی اور نام تجویز فرمایا۔۱۲۔جب حضور کو مسیح موعود ہونے کا الہام ہوا۔تو میرے دوست منشی اروڑا صاحب نے ذکر کیا کہ ایک بڑا ابتلاء آنے والا ہے۔وہ قادیان سے یہ الہام سن کر آئے تھے۔میں نے ان سے دریافت کیا۔مگر انہوں نے نہ بتلایا۔مگر یہی کہتے رہے کہ ایک بڑا ابتلاء آنے والا ہے۔اس پر میں خود قادیان چلا گیا تو حضور نے فرمایا کہ ہمیں یہ الہام ہوا ہے۔میں نے اسی وقت عرض کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص ان کا زمانہ پائے وہ میرا سلام انہیں پہنچا دے۔اس لئے میں آنحضرت کی طرف سے حضور کو سلام پہنچاتا ہوں۔حضور بہت ہی خوش ہوئے اور فرمایا کہ جس اخلاص اور محبت سے کپورتھلہ والوں نے مانا ہے۔اس کی نظیر کم ہے۔اس کے کچھ دن بعد میں نے واپسی کی اجازت چاہی کہ اپنے دوستوں کو جاکر اطلاع دوں۔حضور نے فرمایا۔آپ ذرا ٹھہریں میں ایک کتاب فتح اسلام“ لکھ رہا ہوں وہ چھپ جائے تو لے کر جائیں۔میں ایسے دلائل دوں گا کہ مخالفوں کو ڈھونڈو گے تو گھر سے نہ ملیں گے۔میں کپورتھلہ واپس آیا۔تو منشی اروڑا صاحب، محمد خاں صاحب سے اس دعوے کا ذکر کر چکے تھے۔اور دونوں میرے انتظار میں یکہ خانہ کپورتھلہ پر جایا کرتے تھے۔میں جب واپس آیا تو میں نے یکے میں سے ہی کہا کہ