اصحاب احمد (جلد 4)

by Other Authors

Page 216 of 253

اصحاب احمد (جلد 4) — Page 216

۲۱۶ الدین صاحب نے پچاس روپے یا کچھ کم و بیش حضور سے طلب کئے اور حضور نے فوراً حافظ حامد علی کے ہاتھ بھجوا دیے۔و۔ایک دفعہ ایک مولوی قادیان آیا اور حضور سے بحث کرنے لگا۔پھر حضور نے اسے جواب دینا شروع کیا تو وہ خاموش ہو گیا۔وفات حیات عیسی علیہ السلام پر گفتگو تھی اور ابتدائی زمانہ کا یہ واقعہ ہے۔آپ نے جب اس کو سمجھایا اور خاموش رہا۔تو آپ نے اس سے دریافت فرمایا کہ کیا آپ سمجھ گئے ہیں۔اس نے کہا۔”جی میں سمجھ گیا ہوں۔کہ آپ دجال ہیں۔چونکہ دجال کی صفت میں یہ بھی آیا ہے کہ وہ بحث میں دوسروں کو بند کر دیا کرے گا۔آپ نے پھر کچھ نہیں فرمایا اور وہ چلا گیا۔امرتسر جا کر اس نے ایک اشتہار چھپوایا۔اور اس میں یہ واقعہ بیان کیا کہ میں نے یہ الفاظ کہے لیکن باوجود اس کے جب آپ اندر تشریف لے گئے تو میں نے ایک رقعہ بھیجا کہ میں ضرورت مند ہوں۔کچھ سلوک میرے ساتھ کرنا چاہیئے۔آپ نے فوراً پندرہ روپے بھیج دیئے۔آپ بہت بھی ہیں۔اور آپ کے منہ پر بھی سخت لفظ کہا جائے تو آپ رنج نہیں کرتے۔آپ نے خود اس آخری امر کا کسی سے ذکر نہیں کیا تھا۔لیکن اس اشتہار سے اس پندرہ روپے دینے کا پتہ چلا۔وو ۱۰۔حضور ایک مرتبہ لدھیا نہ جا رہے تھے۔ہم کرتار پور سے آپ کے ساتھ ریل میں سوار ہو لیئے۔یعنی منشی اروڑا صاحب، محمد خاں صاحب اور خاکسار۔حضور انٹر کے درجے میں تھے ہم اتفاق سے وہیں جابیٹھے مگر ہمارے پاس تیسرے درجہ کا ٹکٹ تھا۔حضور نے پوچھا آپ کے پاس ٹکٹ کون سے درجے کے ہیں ( یہ محض اتفاقیہ اور خلاف معمول بات تھی۔جو حضور نے دریافت فرمایا ) ہم نے کہا سوئم درجے کے ٹکٹ ہیں۔آپ نے فرمایا انٹر کا کرایہ ادا جا کر کر دینا۔جب اسٹیشن پر ہم نے وہ زائد پیسے دیئے۔تو سٹیشن ماسٹر نے جو ہمار واقف تھا لینے سے انکار کیا کہ معمولی