اصحاب احمد (جلد 4) — Page 206
۲۰۶ دیکھا کہ حضور نے بغیر دعا کے کوئی بات فرما دی ہے اور پھر وہ اسی طرح وقوع میں آگئی ہے۔۱۰۶۔ایک دفعہ میری اہلیہ تو میر ٹھ گئی ہوئی تھیں۔گھر خالی تھا تین دن کی تعطیل ہوگئی۔دیوانی مقدمات کی مشکلیں میرے پاس تھی۔میں مسلیں صندوق میں بند کر کے قادیان چلا گیا وہاں پر جب تیسرا دن ہوا تو میں نے حضور کی خدمت میں عرض کی کہ حضور تعطیلیں ختم ہوگئی ہیں۔اجازت فرمائیں کا فرما ئیں۔آپ نے فرمایا ابھی ٹھہرو میں ٹھہر گیا۔تھوڑے دنوں کے بعد منشی اروڑا صاحب کا خط آیا کہ مجسٹریٹ بہت ناراض ہے۔مسلیں ندارد ہیں۔تم فوراً چلے آؤ۔مجھے بہت کچھ تاکید کی تھی۔میں نے وہ خط حضرت صاحب کی خدمت میں پیش کر دیا۔آپ نے فرمایا لکھ دو ہمارا آنا نہیں ہوتا۔میں نے یہی الفاظ لکھ دیئے کہ انہی میں برکت ہے۔پھر میں ایک ہفتہ قادیان رہا۔اور کپورتھلہ سے جو خط آتا میں بغیر پڑھے پھاڑ دیتا۔ایک مہینے کے بعد آپ جب سیر کو تشریف لے جانے لگے تو مجھے فرمانے لگے کہ آپ کو کتنے دن ہو گئے۔میں نے کہا حضور ایک مہینے کے قریب ہو گیا ہے۔تو آپ اس طرح گننے لگے۔ہفتہ ہفتہ آٹھ اور فرمانے لگے ہاں ٹھیک ہے۔پھر فرمایا۔اچھا اب آپ جائیں۔میں کپورتھلہ آیا اور عملہ والوں نے بتایا کہ مجسٹریٹ بہت ناراض ہے۔میں شام کو مجسٹریٹ کے مکان پر گیا کہ وہاں جو کچھ کہنا ہے وہ کہہ لے گا اس نے کہا آپ نے بڑے دن لگائے۔اور اس کے سوا کوئی بات نہیں کہی۔میں نے کہا حضرت صاحب نے آنے نہیں دیا۔وہ کہنے لگا ان کا حکم تو مقدم ہے۔تاریخیں ڈالتا رہا ہوں۔مسلوں کو اچھی طرح دیکھ لینا اور بس۔میں ان دنوں ایک سرشتہ دار کی جگہ کام کرتا تھا۔11 : پہلے والد صاحب اپیل نویس تھے تو بھی سرشتہ داری کا کام کرتے تھے۔مگر مستقل تقر ر آپ کا بعد میں ہوا۔محمد احمد ال