اصحاب احمد (جلد 4) — Page 14
۱۴ یہ تمام وہ دوست ہیں جنہوں نے اپنے اپنے رنگ میں سلسلہ حقہ کی خدمات کیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سچے محبوں میں داخل ہوئے اور بموجب و عده ایزدی لمبی عمریں پائیں۔وَأَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسُ فَيَمُكُتُ فِي الْأَرْضِ حضرت منشی اروڑا صاحب کے اوصاف منشی اروڑا صاحب مرحوم عدالت میں نقشہ نویس تھے پھر ترقی پاکر نائب تحصیلدار تحصیل بھونگہ میں ہو گئے۔فقیرانہ زندگی تھی اور لوگ انہیں باپ کی بجائے سمجھتے تھے۔مسٹر ایل فرینچ کپورتھلہ کے وزیر اعظم تھے جو بعد میں پنجاب گورنمنٹ کے چیف سیکرٹری ہو کر سبکدوش ہوئے۔وزیر اعظم موصوف نہایت دبدبہ اور رعب والے حاکم تھے۔ہر ادنیٰ و اعلیٰ ان کی تادیب سے لرزاں و ترساں تھا۔لیکن منشی اروڑا صاحب کی وہ بہت تعظیم کرتے تھے کہ افسر ایسا ہونا چاہیئے جو اپنی سادگی اور دیانت کی وجہ سے رعایا کے دل میں گھر کر جائے۔وزیر اعظم موصوف ایک دفعہ دورہ پر گئے۔اور لوگوں سے پوچھا کہ تمہارا تحصیلدار کیسا ہے سب نے یک زبان ہوکر کہا کہ وہ تو ہمارے لئے باپ کے بجائے ہے اور ہمارا سچا ہمدرد ہے۔وزیر اعظم نے منشی صاحب کا گھر جا کر دیکھا تو چند ڈھو بروں کے سوا وہاں کچھ نہ تھا بہت متاثر ہوئے۔منشی اروڑا صاحب کا معمول تھا کہ اپنی قوت لایموت کے لئے کچھ روپے اپنی تنخواہ میں سے رکھ کر باقی سلسلہ کے کاموں میں دے دیتے تھے یا حضرت ام المومنین کی نذر کر دیتے تھے۔پنشن پانے کے بعد منشی صاحب مرحوم قادیان جار ہے۔اور صحیح معنوں میں وہاں دھونی رما کر بیٹھ رہے۔اپنا سالن آپ پکاتے لنگر سے روٹی خرید لیتے اور مسجد مبارک میں پہلی صف کے جنوبی گوشے میں جہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نماز پڑھا کرتے تھے۔پنجوقتہ نماز باجماعت ادا کرتے اور اس بات کو برداشت نہ کر سکتے تھے کہ کوئی اور شخص اس جگہ کو روک لے۔یہ عشق و محبت تھا۔جو اس جگہ سے انہیں تازیست رہا۔ایک دن منشی اروڑا صاحب بہشتی مقبرہ کی طرف جارہے تھے میں ساتھ تھا فرمانے لگے اللہ تعالیٰ نے میری سب مرادیں پوری کر دیں۔بس ایک آرزو باقی ہے اور بہشتی مقبرہ کی طرف اشارہ کر کے