اصحاب احمد (جلد 4)

by Other Authors

Page 202 of 253

اصحاب احمد (جلد 4) — Page 202

۲۰۲ و۹۔حضرت مولوی نور الدین صاحب نے ایک دفعہ مجھے فرمایا کہ ہم نے ایک باغیچہ لگایا ہے آؤ آپ کو دکھاتے ہیں۔آپ مجھے اپنے زنانے مکان میں لے گئے۔اور وہاں اپنے کتب خانے میں بٹھا دیا کہ یہ باغیچہ ہے۔تمام عربی کتب تھیں۔ایک جگہ میں نے دیکھا کہ متکلمین کی کتابیں اوپر نیچے رکھی تھیں۔سب سے اوپر براہین احمدیہ۔اس کے نیچے حجتہ اللہ البالغہ شاہ ولی اللہ صاحب کی۔اور اس کے نیچے اور کتابیں میں نے آپ سے دریافت کیا کہ آیا یہ ترتیب اتفاقی ہے یا آپ نے مدارج کے لحاظ سے لگائی ہے۔آپ نے فرمایا میں نے اپنے خیال میں درجے وار لگائی ہیں۔پھر مجھے الماری کے نیچے مولوی صاحب کے دستخطی کچھ عربی میں لکھے ہوئے کاغذ ملے جو پھٹے ہوئے تھے۔میں وہ نکال کر پڑھنے لگا۔آپ نے منع فرمایا۔میں نے کہا قرآن شریف کی تفسیر معلوم ہوتی ہے۔فرمانے لگے کیا پوچھتے ہو۔میں نے منطق الطیر کی تفسیر کی تھی۔نہایت ذوق شوق سے۔اور میں سمجھتا تھا کہ میں اس مسئلے کو خوب سمجھا ہوں۔لیکن کل حضرت صاحب نے منطق الطیر پر تقریر فرمائی۔تو میں بہت شرمندہ ہوا اور میں نے آکر یہ مضمون پھاڑ دیا اور اپنے آپ کو کہا کہ تو کیا جانتا ہے۔۱۰۰۔منشی اروڑا صاحب کے پاس کپورتھلہ خط آیا کہ حضرت صاحب پر مقدمہ قتل بن گیا ہے۔وہ فوراً بٹالہ روانہ ہو گئے۔ہمیں اطلاع تک نہ کی۔میں اور محمد خاں صاحب تعجب کرتے رہے کہ منشی صاحب کہاں اور کیوں چلے گئے ہیں۔ہمیں کچھ گھبراہٹ سی تھی۔خیر اگلے دن میں قادیان جانے کے ارادہ سے روانہ ہو گیا۔بٹالہ جا کر معلوم ہوا کہ حضرت صاحب یہاں تشریف رکھتے ہیں۔اور مارٹن کلارک والا مقدمہ بن گیا ہے۔ابھی میں حضور کی قیام گاہ پر جا کر کھڑا ہی ہوا تھا۔اور حضور نے مجھے دیکھا بھی نہ تھا۔نہ میں نے حضور کو۔کہ آپ نے فرمایا منشی ظفر احمد صاحب کو بلا لو۔میں حاضر ہو گیا۔منشی اروڑا صاحب کی عادت تھی کہ حضرت صاحب کے