اصحاب احمد (جلد 4)

by Other Authors

Page 193 of 253

اصحاب احمد (جلد 4) — Page 193

۱۹۳ بڑی عزت ہے۔آپ کو جو اس بحث کے لئے تکلیف دی ہے میں معافی چاہتا ہوں۔غرضیکہ وہ حضرت صاحب کا بڑا ادب کرتا تھا۔’۹۰۔دہلی سے حضرت صاحب تو واپس تشریف لے گئے۔میں کتابیں واپس کرنے کیلئے ایک روز ٹھہر گیا۔جسے کتابیں واپس دینے جاتا وہ گالیاں دیتا مگر میں ہنس پڑتا۔اس پر وہ اور کوستے۔چونکہ ہمیں کامیابی ہوئی تھی۔اس لئے ان کی گالیوں پر بجائے غصے کے ہنسی آتی تھی اور بے اختیار۔۹۱۔دہلی میں جب آپ تشریف فرما تھے تو ایک دن حضور شاہ ولی اللہ صاحب کے مزار پر تشریف لے گئے۔فاتحہ پڑھی ہے اور فرمایا کہ یہ اپے زمانہ کے مجدد تھے۔۹۲۔ایک دفعہ میں قادیان سے رخصت ہونے لگا اور حضور نے اجازت دی۔پھر فرمایا کہ ٹھہر جائیں آپ دودھ کا گلاس لے آئے اور فرمایا پی لیں۔شیخ رحمت اللہ صاحب بھی آگئے۔پھر ان کے لئے بھی حضور دودھ کا گلاس لائے اور پھر نہر تک ہمیں چھوڑنے کے لئے تشریف لائے اور بہت دفعہ حضور نہر تک ہمیں چھوڑنے کے لئے تشریف لاتے۔۹۳۔میر عباس علی صاحب لدھیانوی بہت پرانے معتقد تھے وہ حضرت صاحب سے اصطلاح صوفیا میں معنے دریافت کرتے رہتے۔اور تصوف کے مسائل پوچھتے رہتے۔اس بارے میں حضرت صاحب نے کئی مبسوط خط انہیں لکھے تھے جو ایک کتاب میں انہوں نے نقل کر ر کھے تھے۔اور بہت سی معلومات ان خطوط میں تھیں۔گویا تصوف کا نچوڑ تھا۔میر عباس کا قول تھا کہ انہوں نے بے وضو کوئی خط نقل نہیں کیا۔حضرت صاحب نے براہین احمدیہ کے بہت سے نسخے میر صاحب کو بھیجے تھے اور لکھا تھا کہ یہ کوئی خرید وفروخت کا معاملہ نہیں۔آپ اپنے دوستوں کو دے سکتے ہیں۔چونکہ میرا ان سے پرانا تعلق تھا میں ان سے وہ خطوط والی کتاب دیکھنے کو یعنی دعا کی۔