اصحاب احمد (جلد 4)

by Other Authors

Page 192 of 253

اصحاب احمد (جلد 4) — Page 192

۱۹۲ آتا اور یہ نقل کرتے رہتے۔حضرت صاحب اس قدر جلد لکھ رہے تھے کہ ایک دو ورقہ نقل کرنے والوں کے ذمہ فاضل رہتا تھا عبدالقدوس جو خود بہت زود نو لیس تھا حیران ہو گیا۔اور ہاتھ لگا کر سیاہی کو دیکھنے لگا۔کہ یہ پہلے کا تو لکھا ہوا نہیں۔میں نے کہا اگر ایسا ہو تو یہ ایک عظیم الشان معجزہ ہے کہ جواب پہلے سے لکھا ہو۔د غرض اس طرح جھٹ پٹ آپ نے جواب لکھ دیا۔اور ساتھ ہی اس کی نقل بھی ہوتی گئی۔میں نے مولوی بشیر صاحب کو وہ جواب دے دیا کہ آپ اس کا جواب لکھیں۔اس نے کہا میں حضرت صاحب سے ملنا چاہتا ہوں۔ہم نے تو نہیں لیکن کسی نے حضرت صاحب کو اطلاع کر دی کہ مولوی محمد بشیر صاحب ملنا چاہتے ہیں۔حضور فوراً تشریف لے آئے اور مولوی محمد بشیر صاحب نے کہا کہ اگر آپ اجازت فرما ئیں تو میں کل جواب لکھ لاؤں گا۔آپ نے خوشی سے اجازت دے دی۔حضرت صاحب تو اوپر تشریف لے گئے مگر ہم ان کے پیچھے پڑ گئے کہ یہ کوئی بحث ہے۔اس طرح تو آپ بھوپال میں بھی کر سکتے تھے۔جب بہت کش مکش اس بارے میں ہوئی تو دہلی والوں نے کہا کہ جب مرزا صاحب اجازت دے گئے ہیں تو آپ کو روکنے کا کیا حق ہے۔ہم تو خود سمجھ گئے ہیں کہ یہ بالمقابل بیٹھ کر بحث نہیں کر سکتے۔پھر ہم نے مولوی صاحب کو چھوڑ دیا۔آخری مباحثہ تک مولوی محمد بشیر صاحب کا یہی رویہ رہا۔کبھی انہوں نے سامنے بیٹھ کر نہیں لکھا اجازت لے کر چلے جاتے۔’ایک مولوی نے مولوی محمد بشیر صاحب کو کہا کہ بڑی بات آپ کی بحث میں نون ثقیلہ کی تھی۔مگر مرزا صاحب نے تو نون ثقیلہ کے پل باندھ دیئے۔بحث کے ختم ہونے پر چلتے وقت مولوی محمد بشیر صاحب حضرت صاحب سے ملنے آئے اور حضرت صاحب سے کہا میرے دل میں آپ کی