اصحاب احمد (جلد 4) — Page 10
تمہاری بچی ایک تو بے اولاد ہیں اور حافظ صاحب کی وفات کا صدمہ بھی انہیں ہے اگر تم یہ جائیداد لو گے تو بیوہ کی مزید دل شکنی ہوگی۔والد صاحب نے اس نصیحت کے مطابق وہ تحریر اسی وقت چاک کر دی۔اور تمام جائیداد پر اپنی بچی کا دخل کرا دیا۔اور چی صاحبہ کے فوت ہونے کے بعد وہ تمام جائیداد مرحومہ کے ورثاء کو مل گئی۔والد صاحب کو نہیں ملی۔وضعداری کا ایک اور واقعہ وضعداری کا ایک اور واقعہ اسی قسم کا ہے۔ہمارے بزرگوں نے ایک موضع انیس ہزار روپیہ میں رہن کیا ہوا تھا۔جسے ساٹھ سال کے قریب ہو گئے تھے اس کے آزاد کرانے کا حق والد صاحب کو پہنچتا تھا۔ایک سا ہو کا ر نے چاہا کہ مقدمہ کر کے وہ موضع آزاد کرائے اور تمام صرف برداشت کرنے کا سا ہو کار نے ذمہ لیا۔اس شرط پر کہ آزاد ہونے پر نصف موضع سا ہو کا رکو دیا جائے۔والد صاحب نے یہ سودا تقریباً طے کر لیا اور اپنے بڑے بھائی حافظ خادم الانبیاء صاحب سے اس کا ذکر کیا۔لیکن بڑے بھائی نے اس قسم کے سودے کو وضعداری کے خلاف اور خاندانی وقار کے برعکس جان کر رد کر دیا۔بڑے بھائی کے ادب کی وجہ سے والد صاحب خاموش ہور ہے۔اور پھر وہ موضع آزاد نہ ہو سکا۔کپور تھلے میں ذریعہ آمد ریاست کپورتھلہ میں والد صاحب نے کسب معاش کرنی چاہی اور آپ عدالت میں اپیل نویس مقرر ہو گئے۔اس زمانے میں سرکار کی طرف سے ایک ہی شخص کو اپیل نویسی کی اجازت ہوتی تھی۔اس لئے معقول آمدنی پیدا ہو جاتی تھی۔اور ملازمت کی نسبت بہت آزادی تھی۔والد صاحب تحریر میں بہت مشاق اور ماہر تھے اس لئے گو آپ کا نام بطور اپیل نویس مشہور تھا۔لیکن اس زمانے کے مجسٹریٹ آپ سے سررشتہ داری کا کام لیتے تھے۔اور