اصحاب احمد (جلد 4)

by Other Authors

Page 149 of 253

اصحاب احمد (جلد 4) — Page 149

۱۴۹ وو ۲۷۔آتھم نے ایک دفعہ ایسے سوالات کئے کہ ہمارے بعض احباب گھبرا گئے کہ ان کا جواب فوراً نہیں دیا جا سکتا۔بعض احباب نے ایک کمیٹی کی۔اور قرآن شریف اور انجیل وغیرہ کے حوالوں سے چاہا کہ حضرت صاحب کو امداد دیں۔میں نے مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم کو مزاحاً کہا کہ آیا نبوتیں بھی مشورے سے کرتے ہیں۔اتنے میں حضرت صاحب تشریف لے آئے۔اور حضور کچھ باتیں کر کے جانے لگے۔تو مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم نے کھڑے ہو کر عرض کی کہ اگر کل کے جواب کے لئے کچھ مشورہ کر لیا جائے تو کچھ حرج تو نہیں؟ اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہنستے ہوئے یہ فرما کر کہ ” آپ کی دعا کافی ہے۔فوراً تشریف لے گئے۔۲۸۔آخری دن جب آتھم کو پیشگوئی سنائی گئی تو اس کا رنگ بالکل زرد ہو گیا۔اور دانتوں میں زبان دے کر گردن ہلا کر کہنے لگا کہ میں نے حضرت محمد صاحب کو دجال نہیں کہا۔حالانکہ اس نے اپنی کتاب اندرونہ بائبل میں یہ لفظ لکھا تھا۔پھر آتھم اٹھا اور گر پڑا۔حالانکہ وہ بہت قوی آدمی تھا۔پھر دو عیسائیوں نے اس کی بغلوں میں ہاتھ دے کر اسے اٹھایا۔ایک : حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب دام ضیفہ نے یہ روایت سیرت المہدی جلد سوم میں نمبر ۵۱۵ پر درج کی ہے جہاں ایک فقرہ ان الفاظ میں ہے : ” کیا نبوتیں بھی مشورے سے ہوا کرتی ہیں۔حضرت صاحبزادہ صاحب نے اس روایت کے متعلق جو تشریحی عبارت رقم فرمائی ہے۔درج ذیل ہے: خاکسار عرض کرتا ہے کہ انبیاء اکثر امور میں مشورہ لیتے ہیں اور ان سے بڑھ کر کوئی مشورہ نہیں لیتا۔مگر بعض ایسے واقعات ہوتے ہیں کہ جن میں وہ دوسرے واسطوں کو چھوڑ کر محض خدا کی امداد پر بھروسہ کرنا پسند کرتے ہیں علاوہ ازیں مشورہ کا بھی موقعہ اور محل ہوتا ہے اور کسی دشمن کی طرف سے علمی اعتراض ہونے پر انبیاء عموماً محض خدا کی نصرت پر بھروسہ کرتے ہیں۔چنانچہ اس موقعہ پر خدا نے عیسائیوں کو ذلیل کیا۔“