اصحاب احمد (جلد 4)

by Other Authors

Page 148 of 253

اصحاب احمد (جلد 4) — Page 148

۱۴۸ بحث تقریری ہوتی تھی اور ہم لکھتے جاتے تھے۔اور عیسائیوں کے آدمی بھی لکھتے تھے۔اور بعد میں تحریروں کا مقابلہ کر لیتے تھے۔حضرت صاحب اختصار کے طور پر غ سے مراد غلام حمد اور ع سے مراد عبداللہ لکھاتے تھے۔آتھم بہت ادب سے پیش آتا تھا۔جب عیسائیوں کے لکھنے والے زیادہ جلد نہ لکھ سکتے۔تو آتھم خاکسار کو یعنی مجھے مخاطب کر کے کہا کرتا کہ یہ عیسائی ہمارے لکھنے والے ٹو ہیں۔ان کی کمریں لگی ہوئی ہیں۔انہیں بھی ساتھ لینا۔کیونکہ میں اور خلیفہ نورالدین صاحب بہت زود نو لیس تھے۔آتھم کی طبیعت میں تمسخر تھا۔ایک دن آنتقم مقابلہ پر نہ آیا۔اس کی جگہ مارٹن کلارک بیٹھا۔یہ بہت بے ادب اور گستاخ آدمی تھا۔اس نے ایک دن چند لولے لنگڑے۔اندھے اکٹھے کر لئے اور لا کر بیٹھا دیئے اور کہا کہ آپ کو مسیح ہونے کا دعویٰ ہے ان پر ہاتھ پھیر کر اچھا کر دیں۔اگر ایسا ہو گیا تو ہم اپنی کچھ اصلاح کریں گے۔اس وقت جماعت میں ایک سناٹا سا پیدا ہو گیا۔حضرت مسیح موعودؓ نے جواباً ارشاد فرمایا کہ ہمارے ایمان کی علامت جو قرآن شریف نے بیان فرمائی ہے۔یعنی استجابت دعا اور تین اور علامتیں حضور نے بیان فرمائیں۔یعنے فصاحت و بلاغت اور فہم قرآن اور امور غیبیہ کی پیشگوئیاں۔اس میں ہماری تم آزمائش کر سکتے ہو۔اور اس جلسہ میں کر سکتے ہو۔لیکن مسیح نے تمہارے ایمان کی یہ علامت قرار دی ہے کہ اگر تم میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہوگا۔تو لنگڑوں۔لولوں کو چنگا کر دو گے اور پہاڑوں کو اپنی جگہ سے ہلا سکو گے۔لیکن میں تم سے اتنے بڑے نشان تو نہیں مانگتا۔میں ایک جوتی الٹا دیتا ہوں۔اگر وہ تمہارے اشارے سے سیدھی ہو جائے تو میں سمجھوں گا کہ تم میں رائی کے دانے کے برابر ایمان ہے۔اس وقت جس قدر مسلمان تھے خوش ہو گئے۔اور فریق ثانی مارٹن کلارک کے ہوش گم ہو گئے۔