اصحاب احمد (جلد 4) — Page 147
۱۴۷ سب چلے گئے تو نواب صاحب بیٹھے رہے اور نواب صاحب نے کہا کہ آپ تو اسلام کی روح بیان فرماتے تھے اور اسلام کی صداقت آفتاب کی طرح سامنے نظر آتی تھی۔وہ لوگ بڑے ظالم ہیں جو آپ کے متعلق سخت کلامی کرتے ہیں۔ظالم کا لفظ سن کر حضور نے شیعہ مذہب کی تردید شروع کر دی۔گویا ثابت کیا کہ شیعہ ظلم کرتے ہیں۔جو صحابہ کا فیض یافتہ صحبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ہونا نہیں مانتے۔اور صحابہ کا تقدس ظاہر کر کے بڑے جوش سے فرمایا کہ کیا کوئی شیعہ اس بات کو گوارہ کر سکتا ہے کہ اس کی ماں کی قبر دونا بکاروں کے درمیان ہو؟ مولوی عبدالکریم صاحب کا چہرہ اترا ہوا سا تھا۔پھر نواب صاحب نہایت ادب سے اجازت لے کر چلے گئے۔ان کے جانے کے بعد مولوی عبدالکریم صاحب نے حضور سے دریافت کیا کہ کیا حضور کو یہ علم نہیں تھا کہ یہ شیعہ مذہب رکھتے ہیں۔حضور نے فرمایا ان کے ہمارے بزرگوں سے تعلقات چلے آتے ہیں۔ہم خوب جانتے ہیں۔میں نے سمجھا کہ یہ بڑے آدمی کہاں کسی کے پاس چل کر جاتے ہیں۔میں نے چاہا کہ حق ان کے گوش گزار کردوں۔۶۶۔امرتسر میں جب آتھم کے ساتھ مباحثہ قرار پایا تو ہیں ہیں چھپیں بچھپیں آدمی فریقین کے شامل ہوتے تھے۔ہماری طرف سے علاوہ غیر احمدیوں کے مولوی عبدالکریم صاحب اور سید محمد احسن صاحب بھی شامل ہوتے تھے۔اور ایک شخص اللہ دیا لدھیانوی جلد ساز تھا جس کو تو ریت وانجیل خوب یاد تھی اور کرنیل الطاف علی خان صاحب رئیس کپورتھلہ عیسائیوں کی طرف بیٹھا کرتے تھے۔ایک طرف عبداللہ آتھم اور ایک طرف حضرت صاحب بیٹھتے تھے۔دونوں فریق کے درمیان خلیفہ نورالدین صاحب جمونی اور خاکسار مباحثہ لکھنے والے بیٹھا کرتے تھے۔اور دو کس عیسائیوں میں سے اسی طرح لکھنے کے لئے بیٹھا کرتے تھے۔