اصحاب احمد (جلد 4)

by Other Authors

Page 92 of 253

اصحاب احمد (جلد 4) — Page 92

۹۲ ساٹھ سال کے عرصہ میں ہر قدم پہلے سے آگے میں اپنے مضمون سے ہٹ گیا۔میں حضرت منشی ظفر احمد صاحب مرحوم کی تدفین کا ذکر کر رہا تھا کہ اس وقت بہت سے لوگوں کی زبان پر یہ ذکر تھا کہ ان کی وفات ایسے حالات میں ہوئی ہے جو ہر مومن کی لئے باعث رشک ہونی چاہیئے۔اور اس میں کیا شبہ ہے کہ منشی صاحب مرحوم کی زندگی اور موت دونوں نے خدا کی خاص بلکہ خاص الخاص برکت سے حصہ پایا ہے۔ابھی وہ بچپن کی عمر سے نکل ہی رہے تھے اور نو جوانی کا آغاز تھا کہ خدا کی ازلی رحمت انہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قدموں میں لے آئی۔یہ غالباً ۱۸۸۳ء کا سال تھا۔جب کہ براہین احمدیہ زیر تصنیف تھی اور ابھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف سے مجددیت کے دعوی کا اعلان بھی نہیں ہوا تھا۔وہ دن اور آج کا دن جن کے درمیان قریباً ۶۰ سال کا عرصہ گزرتا ہے۔مرحوم کا ہر قدم پہلے قدم سے آگے پڑا۔اور مرحوم کی محبت اور اخلاص نے اس طرح ترقی کی جس طرح ایک تیزی سے بڑھنے والا پودا اچھی زمین اور اچھی آب پاشی اور اچھی پرداخت کے نیچے ترقی کرتا ہے۔اس زمانہ میں مصائب کے زلزلے بھی آئے۔حوادث کی آندھیاں بھی چلیں۔ابتلاؤں کے طوفانوں نے بھی اپنا زور دکھایا۔مگر یہ خدا کا بندہ آگے ہی آگے قدم اٹھاتا گیا۔گرنے والے گر گئے۔ٹھوکر کھانے والوں نے ٹھوکریں کھائیں۔لغزش میں پڑنے والے لغزشوں میں پڑ گئے مگر منشی صاحب مرحوم کا سر ہر طوفان کے بعد او پر ہی اوپر اٹھتا نظر آیا اور بالآخر سب کچھ دیکھ کر اور سارے عجائبات قدرت کا نظارہ کر کے وہ موت کے عروسی جشن میں سے ہوتے ہوئے اپنے آقا و محبوب کے قدموں میں پہنچ گئے۔اس زندگی سے بہتر کونسی زندگی اور اس موت سے بہتر کونسی موت ہوگی؟