اصحاب احمد (جلد 4)

by Other Authors

Page 60 of 253

اصحاب احمد (جلد 4) — Page 60

۶۰ وو دنیا جائے مصائب و مشکلات ہے نہ ایک کیلئے بلکہ سب کے لئے انبیاء اور رسل بھی اس سے خالی نہیں رہے۔مگر ان کے اور ان کے کامل متبعین کیلئے وہ روحانی ترقی اور درجات کا باعث ہوتے ہیں اور دنیا داروں کو ان کی شامت اعمال کی سزا کے رنگ میں ہوتے ہیں۔آپ دینی امتحان میں کامیاب ہو کر جارہے ہیں اور آپ کا نقطہ نگاہ تبلیغ ہے۔میری رائے ہے کہ اگر آپ کے والد ماجد صاحب اجازت دے دیں۔تو کچھ عرصہ اور آپ کو قادیان رہنا چاہیئے اور مبلغین میں سے خاص طور پر آپ کو مولوی غلام رسول صاحب را جیلی کے ساتھ رہنا چاہیئے۔بہر حال اس کو مد نظر رکھیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک احمدی مبلغ کی بحث سن کر فرمایا کہ: دراصل اعمال سے تبلیغ کرو۔اعمال سے غیر احمدیوں پر تم فتح حاصل کرو۔اور وہ اچھی طرح جان لیں۔اور ان کا دل بول اٹھے کہ وہ نیک اعمال جو احمدیوں کے ہیں وہ ہمارے اندر نہیں ہیں اور عوام پر کھلے طور پر یہ ظاہر ہو جائے کہ یہ لوگ وہ نہیں رہے جو بیعت سے پہلے تھے۔قادیان دارالامان اور نزول برکات الہیہ کا بوجہ تخت گاہ رسول ہونے کے دین کا مرکز ہے۔اس عرصہ تین سال میں آپ کو بزرگان دین اور خصوصاً حضرت خلیفۃ اسیح علیہ الصلوۃ والسلام کے وعظ ونصیحت اور تقاریر سے استفادہ حاصل کرنے کا موقعہ ملا ہے جہاں روزمرہ تازہ بتازہ روحانی دودھ میسر آتا تھا۔احمدیوں اور غیر احمدیوں میں مابہ الامتیاز فہم قرآن کریم ہے۔یہ ایک شعر ہے۔جميع العلم في القرآن تقاصر عنه افهام لكن الرجال قرآن کریم کے یہ علوم دار الناس میں ہی رہ کر حاصل ہوتے ہیں۔