اصحاب احمد (جلد 4) — Page 61
۶۱ قرآن شریف میں ہے لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ۔اس کے معنے غیر احمدی سابق و حال کے یہی کرتے آئے اور کرتے ہیں کہ قرآن شریف کو بے وضو ہاتھ نہ لگاؤ۔مگر حضرت مسیح موعودؓ نے بتلایا کہ اس کا یہ مطلب ہے کہ جو کامل طور پر تزکیہ نفس کر کے مظہر نہیں بنتا قرآن شریف کے علوم اس پر نہیں کھلتے۔اور قرآن شریف میں بھی ہے اتَّقُو اللَّه وَيُعَلِّمُكُمُ اللہ تو تقویٰ اللہ حاصل کئے بغیر تفہیم قرآن مجید حاصل نہیں ہوتی۔قرآن شریف کو اپنا دستورالعمل بنانا چاہیئے۔اور روزمرہ قرآن شریف کو نہایت غور و تدبر سے پڑھنا چاہیئے۔قرآن کریم میں ہے فَاتَّقُو اللَّهَ مَا اسْتَطَعْتُم پس تقویٰ کی ان باریک راہوں پر چلنا چاہیئے۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم کا منشاء ہے۔قرآن شریف تمام علوم سے فارغ کر دیتا ہے۔خدا تعالی آپ کا ناصر ومددگار ہو۔اور قرآن شریف کا فہم عطا کرے۔آمین خاکسار۔ظفر احمد کپورتھلوی‘۲۹ صدرانجمن احمدیہ کی رپورٹوں میں ذکر۔۱۹۰۷ء سے ۱۲۔۱۹۱۱ء تک کی سالانہ رپورٹوں میں آپ کا بطور سیکرٹری جماعت احمد یہ کپورتھلہ ذکر ہے۔ایک بار یہ بھی ذکر ہے کہ آپ نے بہت سے مفید امور کی طرف توجہ دلائی ہے۔۳۰ ۱۹۱۲ء میں مدرسہ تعلیم الاسلام قادیان کی تعمیر کے لئے ایک لاکھ روپیہ چندہ کی تحریک کی گئی تھی۔اس کی رپورٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ کپورتھلہ کے چندہ جات کی فراہمی کی ذمہ داری آپ پر ہی تھی۔اسے بیعت خلافت ثانیه وفات حضرت خلیفۃ المسیح اول پر جماعت پر ایک ابتلا آیا۔مولوی محمد علی صاح