اصحاب احمد (جلد 4) — Page 39
۳۹ سکوت اور غم کے عالم میں دست بدعا تھا۔اس درمیان میں قبلہ حضرت مفتی محمد صادق صاحب کے منہ سے بے اختیار اونچی آواز میں یہ کلمہ نکلا ” آپ کا دوست پہنچ گیا آپ کے پاس مفتی صاحب والد صاحب کے قدیم اور یک رنگ دوستوں میں سے ہیں۔اور مندرجہ بالا فقرہ میں والد صاحب کی سیرت یعنی دنیا و آخرت میں مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی محبت کا نقشہ کھینچ گیا ہے۔یہ فقرہ دل کی گہرائیوں اور دردناکیوں سے بے اختیار نکلا ہے۔۲۱ اگست کی سہ پہر کو حضرت صاحب ڈلہوزی سے قادیان تشریف لائے اور مجھ سے دریافت فرمایا کہ انتقال آیا پرسوں ہوا۔میں نے عرض کیا کہ نہیں کل ہوا ہے۔حضور نے فرمایا کہ میں ڈلہوزی سے جنازہ کے لئے آجاتا۔لیکن اس خیال سے کہ نعش خراب نہ ہو جائے۔میں نے نماز جنازہ نہیں رکوائی۔۲۲ اگست کو حضور نے والد صاحب کے متعلق خطبہ پڑھا۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ آپ کی قدیمی رفاقت اور بے نظیر وفاداری کا ذکر فر مایا۔اور نماز جنازہ غائب بھی پڑھائی۔حضور نے مذکورہ بالا خطبہ میں یہ اشعار بھی پڑھے۔وا اسفا على فراق قوم هم المصابيح والحصون والمدن والمزن والرواسي والخير والامن والسكون لم تتغير لنا الليالي حتى تو فهم المنون فكل لنا جمر قلوب وكل ماء لنا عيون غرضیکہ بہت دردناک خطبہ تھا۔خطبے اور نماز جنازہ کے بعد اکثر دوستوں نے دوبارہ والد صاحب کے مزار پر جا کر دعا کی۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے الفضل میں والد صاحب کے متعلق ایک نوٹ شائع فرمایا جس میں خصوصیت سے یہ مذکور تھا کہ تقریباً ۶۰