اصحاب احمد (جلد 4)

by Other Authors

Page 40 of 253

اصحاب احمد (جلد 4) — Page 40

۴۰ سال کے عرصہ میں سلسلہ حقہ پر کئی طوفان اور آندھیاں آئیں۔لیکن ہر ابتلاء کے وقت مرحوم کا صدق و وفا پیش از پیش ثابت اور استوار اور نمایاں ہوتا رہا۔والد صاحب مرحوم کا تعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے اس قسم کا تھا که من تو شدم تو من شدی چنانچہ ہر سفر میں آپ کے ساتھ رہے اور ہر تقریب میں شامل ہوئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے گھر میں کوئی تقریب تھی جس کا علم احباب کپورتھلہ کو نہیں ہوا۔تو میاں محمد خاں صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خط لکھا کہ حضور ہمیں اس تقریب کی اطلاع نہیں دی گئی۔حضور نے جواباً لکھا کہ میں نے مولوی عبد الکریم صاحب سے کہہ دیا تھا کہ آپ کو اور چند اور دوستوں کو ضرور اطلاع کر دیں لیکن وہ لکھنا بھول گئے اور اس تقریب میں آپ لوگوں کے شامل نہ ہونے کا مجھے بڑا قلق ہے۔لیکن آپ خیال نہ کریں۔کیونکہ کپورتھلہ کی جماعت دنیا میں میرے ساتھ رہی ہے اور آخرت میں بھی میرے ساتھ ہوگی۔وو یہی وہ مضمون ہے جس کی طرف حضرت مفتی صاحب کا یہ فقرہ اشارہ کرتا ہے کہ آپ کا دوست پہنچ گیا آپ کے پاس۔اور اسی کے مطابق والد صاحب نے اپنی وفات سے ایک سال قبل رویاء کے اندر خود کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی معیت میں دیکھا۔وفات کے بعد تیسرے دن خاکسار نے رویاء دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہمارے گھر تشریف لائے اور مجھے فرمایا کہ اپنے ابا کو بلاؤ۔اور پھر بڑی محبت سے دونوں میں ملاقات ہوئی۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام والد صاحب کو اپنے ساتھ لے گئے۔آپ کی وفات کے کچھ عرصہ کے بعد منشی عبدالسمیع صاحب کپور تھلوی نے رویا میں دیکھا کہ آپ جنت کے اندر ایک عالیشان مکان میں ہیں۔اور منشی عبدالسمیع صاحب نے حال دریافت کیا تو آپ نے ہنستے ہوئے جواب دیا کہ حال یہ ہے کہ چھ ماہ ہو چکے ہیں ابھی تو میری مسلسل دعوتیں ہو رہی ہیں۔غرض اس بیان سے یہ ہے کہ وہ جو اولین اصحاب کپورتھلہ کیلئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بشارت تھی کہ وہ عقبی میں بھی آپ کے ساتھ ہوں گے۔اس بشارت