اصحاب احمد (جلد 4) — Page 29
۲۹ قران مجید سے محبت قرآن مجید سے آپ کو بہت محبت تھی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لیتے ہوئے آپ بہت دفعہ چشم پر آب ہو جاتے تھے۔رمضان کے مہینہ میں اکثر آپ کا یہ قاعدہ تھا کہ ایک سیپارہ کے متعلق جو رات کو تراویح میں پڑھا جانا ہوتا تھا۔آپ تفسیری نوٹ دن میں لکھتے اور تراویح کے بعد مسجد میں دوستوں کے سامنے اپنے نوٹ سنا دیتے کہ آج جو سیپارہ پڑھا گیا ہے۔اس میں یہ مطالب اور احکام اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائے ہیں۔یہ ایک بڑی پر لطف محفل ہوتی تھی۔ملازم ملا زمت گزر چکا ہے کہ آپ اپیل نو لیس تھے۔لیکن دراصل سرشتہ داری کا کام کرتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں یہی صورت رہی۔فرماتے۔میں ایک دفعہ حضور کے پاؤں دبا رہا تھا۔میں نے عرض کیا۔”حضور مجھے اپیل نو لیس ہی رہنے دینا ہے۔نے فرمایا: اس میں آزادی ہے آپ اکثر ہمارے پاس آجاتے ہیں اور زیادہ عرصہ آپ کو ہمارے پاس رہنا میسر ہے“ پھر وقفہ کے بعد حضور نے فرمایا: حضور ”اچھا یوں ہو کہ منشی اروڑا صاحب کسی اور ملازمت پر چلے جائیں اور آپ ان کی جگہ پر ملازم ہو جائیں“ خدا کی شان کہ یہ بات من وعن پوری ہوئی۔حضور کی زندگی میں والد صاحب اپیل نو لیس ہی رہے اور حضور کی خدمت میں کثرت سے حاضر باشی کا موقعہ ملتا رہتا۔حضور کے وصال کے بعد کا واقعہ ہے کہ منشی اروڑا صاحب نائب تحصیلدار ہو گئے۔اور والد صاحب مستقل طور پر سرشتہ دار ہو گئے۔