اصحاب احمد (جلد 4)

by Other Authors

Page 30 of 253

اصحاب احمد (جلد 4) — Page 30

۳۰ ملازمت میں آپ کا بہت ہی عجیب رنگ تھا۔حکام آپ کے ارادتمند تھے اور مکمل اعتماد آپ کی کارکردگی پر تھا۔مقدمات کی مسلیں سب گھر پر پہنچ جاتیں آپ ان کا خلاصہ تیار کرتے اور اس پر موافق و مخالف دلائل بھی درج کرتے غرضیکہ مقدمہ کے ماله و ما علیه پر پوری بحث ہوتی۔یہ خلاصہ وکلاء کی بحث کے وقت حاکم کے سامنے ہوتا۔اور اکثر تھوڑے سے تصرف سے یہی خلاصہ فیصلہ کی صورت اختیار کر لیتا۔آپ جس مجسٹریٹ کے سرشتہ دار ہوئے تھے وہ پایہ بپا یہ چیف جی کے عہدہ تک پہنچا۔اور آپ اس کے ساتھ ترقی کرتے کرتے ہائی کورٹ کے رجسٹرار ہوئے یاد رہے کہ کپورتھلہ میں دیوانی اور فوجداری اختیارات ایک ہی عدالت میں ہوتے تھے۔علیحدہ علیحدہ سب حج اور مجسٹریٹ نہ تھے۔اس طریق پر کام ہوتا رہا۔اور آپ جس جس محکمہ میں رہے آپ کی دیانت اور قابلیت کی وجہ سے وہ محکمہ اور اس کا حاکم نیک نام اور ممتاز رہا۔لوگوں کو معلوم تھا اور حکام ریاست جانتے تھے کہ محکمہ کی کار پردازی کا انحصار منشی ظفر احمد صاحب پر ہے۔ریاستوں میں کیا تقریباً ہر جگہ حکام میں فریق بندیاں ہوتی ہیں۔یہی صورت کپورتھلہ میں بھی تھی۔آپ جس شخص کی پیشی میں کام کرتے تھے وہ راجہ صاحب کا بہت محبوب اہلکار تھا۔ایک پرانے خاندان کا سر کر دہ تھا۔جس کے خاندان نے ریاست کی نمایاں خدمات کی تھیں۔اس لحاظ سے اس کے بعض مخالف اور حاسد بھی تھے۔جنہوں نے موقعہ بے موقعہ انہیں زک پہنچانے کی کوشش کی۔لیکن وہ یقین رکھتا تھا کہ والد صاحب ایسے قابل اور دیانتدار ساتھی کی موجودگی میں وہ کسی سے نیچا نہیں دیکھ سکتا۔چنانچہ آخر دم تک یہی صورت رہی۔تا آنکہ وہ شخص چیف جی سے اور والد صاحب رجسٹراری سے پنشن یاب ہوئے۔بعض دفعہ ایسے مواقع پیش آئے کہ اگر والد صاحب اپنے افسر کا ساتھ چھوڑ دیں تو زیادہ ترقی پائیں لیکن آپ نے وفاداری کو دنیوی ترقی اور فائدے پر ترجیح دی اور رفاقت کا رشته آخر دم تک نہ چھوڑا کپورتھلہ کا ہر ادنیٰ و اعلیٰ ان حالات کو جانتا ہے۔جس شخص کا اوپر ذکر ہوا ہے۔اس کا نام دیوان سریشر داس بیرسٹر ایٹ لاء تھا۔دیوان صاحب موصوف والد صاحب کے افسر نہیں بلکہ گویا عقیدت مند تھے۔والد صاحب اگر ذرا بیمار ہوتے تو فوراً