اصحاب احمد (جلد 4)

by Other Authors

Page 227 of 253

اصحاب احمد (جلد 4) — Page 227

۲۲۷ احمد صاحب۔ناقل ) نے عرض کیا۔حضور وہ قادیان میں سے تو نہیں۔فرمایا نہیں۔پھر میں نے عرض کی کہ حضور وہ کپورتھلہ کے تو نہیں۔فرمایا نہیں۔کپورتھلہ تو قادیان کا ایک محلہ ہے ہیں۔66 ایک ہند و فلاسفر کا حضرت اقدس کے تفوق کا اقرار حضرت منشی صاحب نے فرمایا کہ ایک دفعہ ایک ہندو فلاسفر کپورتھلہ آیا اور اعلان ہوا کہ پنڈت صاحب روح و مادہ پر تقریر کریں گے تمام اہلکار جمع ہوئے اور پنڈت صاحب کی تقریر سے محو حیرت ہوئے۔بعد ازاں میں نے ان کی تردید میں تقریر کی۔جس سے پنڈت صاحب کی تقریر کا اثر باطل ہو گیا اور اسی مجمع میں خود پنڈت صاحب نے ہاتھ جوڑ کر بآواز بلند کہا۔دھن مرزا غلام احمد صاحب قادیانی جن کے شاگرد ایسے ہیں۔پھر روانگی سے قبل پنڈت جی مجھے میرے مکان پر ملنے آئے اور بہت خوشی اور تپاک سے ملے۔“ (بیان مکرم حاجی فضل محمد صاحب کپور تھلوی در ولیش) کھانے میں برکت حضرت منشی صاحب نے بیان کیا کہ میری موجودگی کا واقعہ ہے کہ گورداسپور میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک مقدمہ کے تعلق میں قیام فرما تھے۔باورچی نے دیکھا کہ جتنے دوست موجود تھے۔ان کی تعداد کے مطابق کھانے کا انتظام کیا گیا تھا۔لیکن پھر اور مہمان بھی آگئے اور کھانا کفایت کر گیا تھا۔تو اس نے صبح کے کھانے کے متعلق یہ ماجرا حضور کی حضرت منشی عبدالرحمن صاحب کپور تھلوی فرماتے تھے کہ جب طاعون شروع ہوئی تو جماعت کپورتھلہ نے بذریعہ خط عرض کیا کہ اگر حضور اجازت دیں تو ہم قادیان آجائیں! حضور نے تحریر فرمایا ! نہیں تم اسی جگہ رہو اور کپورتھلہ کو قادیان کا محلہ تصور کرو۔