اصحاب احمد (جلد 4)

by Other Authors

Page 226 of 253

اصحاب احمد (جلد 4) — Page 226

۲۲۶ لے لیں۔میں دوسرا باندھ لیتا ہوں۔مجھ پر اس محبت و شفقت کا جواثر ہوا الفاظ اسے ادا نہیں کر سکتے۔میں نے نہایت احترام کے ساتھ اس عمامہ کو لے لیا اور آپ بے تکلف گھر تشریف لے گئے۔اور دوسرا عمامہ باندھ کر آگئے۔ے۔ایک مرتبہ ایک شخص نے اپنے افلاس کا ذکر کیا۔آپ نے فرمایا کہ استغفار کیا کرو۔اور فرمایا کہ رزق کی تنگی ہمشہ کمی ایمان کا موجب ہوتی ہے۔1۔”ہمارے ایک دوست منشی فیاض علی صاحب ہیں۔کپورتھلہ میں کرنل جو الا سنگھ نام ان کے افسر تھے اور وہ ان کو بہت ستاتے تھے۔انہوں نے حضرت اقدس کو دعا کے لئے لکھا۔آپ کا عام طور پر یہ معمول نہ تھا کہ کسی ( کو ) کوئی وظیفہ وغیرہ کسی خاص تعداد سے پڑھنے کی ہدایت فرمائیں۔مگر ان کو کہا کہ عشاء کی نماز کے بعد دوسو مرتبہ لاحول پڑھا کریں۔چنانچہ انہوں نے اس پر عمل کیا اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تھوڑے ہی دنوں بعد کرنیل صاحب کی پنشن ہوگئی۔اور ان کی جگہ ان کا بیٹا مقرر ہو گیا۔وہ ان کے ساتھ بہت مہربانی کرتا رہا۔ایک اور شخص منشی فضل حق نامی ( جو ہمارے منشی عبدالرحمن صاحب کپورتھلوی کے داماد ہیں ) کو معلوم ہو گیا۔ان پر ایک قتل کا مقدمہ تھا۔انہوں نے بھی اسے پڑھنا شروع کیا اور وہ بری ہو گئے۔ایک مرتبہ سالانہ جلسہ پر مولوی مبارک علی سیالکوٹی نے ایک قصیدہ حضرت مسیح موعود کی شان میں سنایا۔آپ نے سن کر فرمایا ہماری تو یہ خواہش ہے کہ اذان اور تکبیر کی آواز میں چاروں طرف سے کانوں میں آئیں۔۸۔(حضرت نے ) فرمایا میں نے کشف میں دیکھا ہے کہ اس سال ہمیں تین چار دوست داغ مفارقت دے جائیں گے۔میں ( یعنی منشی ظفر