اصحاب احمد (جلد 4)

by Other Authors

Page 16 of 253

اصحاب احمد (جلد 4) — Page 16

۱۶ خاندان روزگار کے سلسلہ میں یہاں آکر سکونت پذیر ہو گئے تھے اور اتفاق سے ایک ہی محلہ میں آباد تھے جو ہندوستانیوں کا محلہ کہلاتا تھا۔ان کی آپس میں برادری ، لین دین ، زبان اور تمدن قائم رہا۔مولوی محمد حسین صاحب آزاد ان دنوں گورنمنٹ کالج لاہور میں پروفیسر تھے۔اور اپنے ایک شاگرد حکیم جعفر علی صاحب بیمار کی وجہ سے کپورتھلہ میں ان کی آمد و رفت تھی۔مشاعرے ہوتے تھے اور بعض دفعہ آزاد صدر مشاعرہ ہوتے تھے۔طرح پر نظمیں کہی جاتی تھیں۔اسی طرح کے ایک مشاعرہ میں والد صاحب نے بھی ایک غزل پڑھی۔والد صاحب کی نوعمری کا عالم تھا۔تین شعر مجھے والد صاحب کے ایک دوست کی زبان سے یاد ہیں۔دشت میں بھی نہیں ملتا دل وحشی کا سراغ ہم نے ہر خار کا پھر پھر کے ٹولا پہلو خواب راحت سے کہیں چونک نہ اٹھے مجنوں ابھی لینا نہ خدا کے لئے کیلئے پہلو اس دوسرے شعر پر آزاد پھڑک اٹھے اور یہ شعر حاصل مشاعرہ شمار ہوا۔مقطع تھا۔سے ظفر دیکھ سکے کیا بد ہیں نگه میرے ہر شعر کا پہلو ہے چھری کا پہلو اس زمانہ میں اسی قسم کے مشاعرے ہوتے تھے۔اور گرامی جو بعد میں حیدرآباد دکن کے ملک الشعراء ہوئے اور ان کے رشتہ دار تر کی جو ریاست نابھہ کے درباری شاعر ہوئے۔دونوں کپورتھلہ میں ہی رہتے تھے۔علم وادب کی پر لطف محبتیں ہوتیں۔اور یہ دونوں فارسی کے اعلیٰ شاعر تھے۔کپورتھلہ میں مشاعرہ کا سلسلہ ہمیشہ جاری رہا۔بعد کے زمانہ میں حفیظ جالندھری بھی کپورتھلہ کے مشاعروں میں شامل ہوتے تھے۔شاہنامہ اسلام پہلی دفعہ انہوں نے کپورتھلہ میں ہی سنایا۔غرض یہ ہے کہ کپورتھلہ میں ایک بہت ہی عمدہ علمی ماحول تھا اور مشاعروں میں سب لوگ بڑی خوشی سے شرکت کرتے تھے۔اور یہ گویا ایک مشتر کہ پلیٹ فارم تھا۔خود راجہ صاحب کو زبان کا شوق تھا اور بہت سی زبانیں وہ خود جانتے